Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > Latest

علی وزیر اور محسن داوڑ کیس کا سیاسی حل نکالا جائے، سینیٹ دفاعی کمیٹی

SAMAA | - Posted: Jun 14, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Jun 14, 2019 | Last Updated: 1 year ago

پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں اور ارکان قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ کے معاملے کا سیاسی حل نکالنے پر زور دیا ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس تحریک انصاف کے سینیٹر ولید اقبال کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی اور سیکریٹری دفاع نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔

اجلاس میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے اور مسلح افواج سے اظہار یکجہتی کیلئے قرارداد بھی منظور کرلی گئی۔ وزیر دفاع پرویز خٹک کی اجلاس میں عدم شرکت پر کمیٹی کے ارکان نے برہمی کا اظہار کیا جس پر سیکریٹری دفاع نے انہیں آگاہ کیا کہ پرویز خٹک قومی اسمبلی کے اجلاس میں مصروف ہیں۔

سینیٹر عبدالقیوم ملک نے کہا کہ وزیر دفاع پرویز خٹک قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں آکر دفاعی بجٹ پر بریفنگ دیں۔

اجلاس میں شمالی وزیرستان کے خڑ کمر پر پیش آنے والا واقعہ اور ارکان قومی اسمبلی کی گرفتاری بھی زیر بحث آئی۔ وزارت دفاع کے حکام نے کمیٹی ارکان کو بتایا کہ خڑ کمر واقعے کے وقت محسن داوڑ اور علی وزیرکے محافظ مسلح تھے۔ قائمہ کمیٹی نے کہا کہ علی وزیر اور محسن داوڑ کا معاملہ سیاسی طریقے سے حل کیاجائے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ قائمہ کمیٹی برائے دفاع عنقریب سیاچن اور شمالی وزیرستان کا دورہ کرے گی۔

علی وزیر اور محسن داوڑ شمالی اور جنوبی وزیرستان سے آزاد امیدواران کے طور پر ارکان قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ دونوں کو شمالی وزیرستان کے علاقہ خڑ کمر میں چیک پوسٹ پر مظاہرین اور پاک فوج کے مابین مبینہ جھڑپ کے بعد گرفتار کیا گیا اور 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پورا ہونے پر پشاور سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

قانون کے تحت پاکستان میں کوئی بھی رکن پارلیمنٹ گرفتار ہوتا ہے تو اسپیکر کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ پولیس یا جیل حکام کو حکم دے کر اس کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں لائے مگر قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے گزشتہ روز محسن داوڈ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے معاملے پر بے بسی کا اظہار کیا تھا۔

پیپلزپارٹی کے ایک وفد نے جمعرات کو سابق صدر اور رکن قومی اسمبلی آصف زرداری کے پرودکشن آرڈرز جاری کرانے کیلئے اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی۔ اسپیکر نے انہیں یقین دہانی کرائی آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر اگلے ہفتے جاری کیے جائیں گے۔

وفد نے اسد قیصر سے سوال کیا کہ اس سے قبل وہ شہباز شریف اور خواجہ سعد رفیق کے بھی پروڈکشن آرڈرز جاری کرچکے ہیں جنہیں نیب نے حراست میں لیا تھا مگر اسپیکر کے حکم پر انہیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے لایا گیا تو محسن داوڑ اور علی وزیر کے معاملے پر پروڈکشن آرڈرز جاری کیوں نہیں کیے۔

پیپلز پارٹی کے وفد کے سوال پر اسد قیصر نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا میرے بس کی بات نہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube