حکومت کا ٹیکس فائلر اور نان فائلرز کی تفریق ختم کرنے کا فیصلہ

June 12, 2019

حکومت نے بجٹ کے ایک دن بعد فائلر اور نان فائلر کی تفریق ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فائلر ان کو کہتے ہیں جو ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں اور نان فائلر وہ ہیں جوگوشوارے جمع نہیں کراتے۔

نئی پالیسی کے مطابق جب نان فائلر گاڑی خریدیں گے تو انہیں 45 دن کے اندر فائلر بننا پڑے گا ورنہ 45 دن کے بعد ان کو نوٹس بھیج کر ذریعہ آمدن کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائلر بننے کا عمل خودکار یعنی آٹومیٹک بنادیا ہے اور اس میں صرف 6 منٹ لگیں گے۔

اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح دنیا بھر سے کم ہے کیوں کہ پاکستان کا امیر طبقہ ٹیکس ادا نہیں کرتا۔ اب مزید یہ رویہ ناقابل قبول ہوگا اور ٹیکس وصولی کیلئے کسی کو ناراض کرنا پڑا تو کرلیں گے۔

پاکستان کی مجموعی پیداوار ( جی ڈی پی) میں ٹیکس کی شرح محض 11 فیصد ہے۔ 22 کروڑ کی آبادی میں محض 20 لاکھ افراد فائلرز ہیں جن میں 6 لاکھ تنخواہ دار ہیں۔ ٹیکس نہ دینے کی وجہ سے حکومت کے اخراجات اور آمدن میں بڑا شارٹ فال ہے جس کے باعث حکومت عوام کی ترقی اور انفرا اسٹرکچر پر خرچ نہیں پارہی۔

رواں مالی سال میں حکومت 2900 ارب روپے محض قرضوں پر سود کی مد میں ادا کرے گی۔ یہ رقم ایف بی آر کے ٹیکس ہدف کا 52 فیصد بنتا ہے۔ رواں سال ٹیکس محصولات کا ہدف 5555 ارب روپے ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ حکومت اپنی آدھی زائد آمدنی قرضوں کی واپسی پر خرچ کر رہی ہے۔

اس وقت حکومت کو 3137 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے کیوں کہ اس کے اخراجات ریونیو سے زیادہ ہیں۔ حکومتی آمدنی بڑھانے کیلئے حکومت نے ’مینوفیکچرنگ‘ لیول پر سیلز ٹیکس وصول کرنے کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ٹیکس چوری روکی جاسکے۔

مشیر خزانہ کے مطابق درآمد شدہ اشیا پر بھی امپورٹ ڈیوٹی بڑھائی جائے گی مگر خام مال میں شامل 1565 اشیا اس سے مستثی ہیں۔