ہوم   > Latest

محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا میرے بس میں نہیں، اسد قیصر

SAMAA | - Posted: Jun 12, 2019 | Last Updated: 12 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 12, 2019 | Last Updated: 12 months ago

قانون کے تحت پاکستان میں کوئی بھی رکن پارلیمنٹ گرفتار ہوتا ہے تو اسپیکر کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ پولیس یا جیل حکام کو حکم دے کر اس کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں لائے مگر قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے شمالی اور جنوبی وزیرستان سے منتخب ہونے والے ارکان پارلیمنٹ محسن داوڈ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے معاملے پر بے بسی کا اظہار کردیا ہے۔

پیپلزپارٹی کا ایک وفد بدھ کو سابق صدر اور رکن قومی اسمبلی آصف زرداری کے پرودکشن آرڈرز جاری کرانے کیلئے اسپیکر کے پاس گیا جہاں اسپیکر نے انہیں یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر اگلے ہفتے جاری کیے جائیں گے۔

آصف زرداری کو قومی احستاب بیورو (نیب) نے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں گزشتہ روز اسلام آباد سے گرفتار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: علی وزیر، محسن داوڑ کو ’غدار‘ کہنے پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی

وفد نے اسد قیصر سے سوال کیا کہ اس سے قبل وہ شہباز شریف اور خواجہ سعد رفیق کے بھی پروڈکشن آرڈرز جاری کرچکے ہیں جنہیں نیب نے حراست میں لیا تھا مگر اسپیکر کے حکم پر انہیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے لایا گیا تو محسن داوڑ اور علی وزیر کے معاملے پر اسد قیصر نے پروڈکشن آرڈرز جاری کیوں نہیں کیے۔

علی وزیر اور محسن داوڑ اگر چہ آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے مگر دونوں پشتون تحفظ موومنٹ کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہیں۔ دونوں کو شمالی وزیرستان کے علاقہ خڑ کمر چیک پوسٹ پر مظاہرین اور پاک فوج کے مابین مبینہ جھڑپ کے بعد گرفتار کیا گیا اور 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پورا ہونے پر پشاور سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے وفد کے سوال پر اسد قیصر نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا میرے بس کی بات نہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube