Friday, July 3, 2020  | 11 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > Latest

سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کا حق دفاع ختم

SAMAA | - Posted: Jun 12, 2019 | Last Updated: 1 year ago
Posted: Jun 12, 2019 | Last Updated: 1 year ago

پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں سابق صدر کا حق دفاع  ختم کردیا گیا۔ عدالت نے کہا ہے کہ مفرور ملزم وکیل کی خدمات بھی حاصل نہیں کرسکتا،وزارت قانون سے مشرف کے دفاع کیلئے وکلاء کے نام طلب کرلئے گئے ہیں، قانون کیمطابق عدالت مشرف کے دفاع کیلئے خود وکیل مقرر کریگی، سابق صدر کی...

پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں سابق صدر کا حق دفاع  ختم کردیا گیا۔ عدالت نے کہا ہے کہ مفرور ملزم وکیل کی خدمات بھی حاصل نہیں کرسکتا،وزارت قانون سے مشرف کے دفاع کیلئے وکلاء کے نام طلب کرلئے گئے ہیں، قانون کیمطابق عدالت مشرف کے دفاع کیلئے خود وکیل مقرر کریگی، سابق صدر کی التواء کی درخواست بھی مسترد کردی گئی ہے۔

جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں خصوصی عدالت کے 3 رکنی بنچ نے سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔

سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا سنگین غداری کیس میں حق دفاع ختم کردیا گیا ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے وکلاء کے نام اور فیس کی تفصیلات مانگی ہیں ،اب عدالت فیصلہ کرے گی کہ پرویز مشرف کیلئے کس وکیل کی خدمات لینی ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دئیے ہیں کہ پرویز مشرف خود کو قانون کے حوالے کریں تو اپنی مرضی کا وکیل کرسکتے ہیں، ملزم کی بیماری کے باعث ٹرائل ملتوی نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پرویز مشرف کو مزید موقع نہیں دے سکتے۔عدالت نے پرویز مشرف کی بریت کی درخواست بھی ناقابل سماعت قرار دی ہے۔

پرویز مشرف کے وکیل کی جانب سے خصوصی عدالت سے ایک اور موقع کی استدعا کی گئی اور کہا گیا کہ پرویز مشرف زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں،انسانی ہمدردی کے تحت ایک اور موقع کی استدعا کررہا ہوں۔ عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کو 1 اپریل 2019 کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو پڑھنے کی ہدایت کی۔

استغاثہ کے وکیل نے پرویز مشرف کی التواء کی درخواست کی مخالفت کی۔ پراسیکوٹر نے اعتراض کیا کہ بار بار موقع مانگا جاتا ہے لیکن وطن واپسی نہیں ہوتی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube