ہوم   >  پاکستان

ٹریول گائیڈ: کراچی سے شمالی علاقہ جات کیسے جائیں؟ قسط اول

4 months ago

شنگریلا ریزارٹ اسکردو کا فضائی منظر: فوٹو: محمد اکمل خان

پاکستان بھر کے ملازمت پیشہ اور کاروباری افراد جب اپنے روزمرہ کے معمول سے اکتا کر عافیت کے چند لمحے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں تو اکیلے یا اپنے اہل خانہ کے ہمراہ مری یا خیبر پختونخوا کے شمالی علاقہ جات کا رخ کرتے ہیں۔

ان افراد خصوصاً فیملی والوں کی سب سے بڑی تشویش یہ ہوتی ہے کہ بیوی بچے ساتھ ہوں گے تو کسی ایسے سیاحتی مقام کا انتخاب کیا جائے جو فیملی کے لیے محفوظ ہو، ناخوشگوار واقعات سے دور رہا جائے تاکہ سکون کیلئے نکالے گئے لمحات یادگار کے بجائے تلخ یاد میں تبدیل نہ ہوجائیں۔

دوسری بڑی مشکل یہ درپیش ہوتی ہے کہ کراچی جیسے علاقے سے اگر کوئی پہلی دفعہ جانا چاہتا ہے تو اس کے لیے یہ فیصلہ مشکل ہوتا ہے کہ کون سے مقام کا انتخاب کیا جائے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ مقام تک کیسے پہنچا جائے، مثلاً گاڑی کہاں سے ملے گی؟ بہتر ٹرانسپورٹ سروس کا انتخاب کیسے کیا جائے؟ متعلقہ علاقے میں بہتر رہائش کیلئے کون سے ہوٹل میں قیام کیا جائے اور مقامی افراد کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہئے۔

آج اس سیزیز کی پہلی قسط میں آپ کو یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ خیبر پختونخوا میں سیاحتی مقامات کون کون سے ہیں، اگلی قسطوں میں باری باری ہر مقام کے بارے میں تفصیل اور اس تک پہنچنے کا راستہ سمجھائیں گے۔

سچ تو یہ ہے کہ خیبر پختونخوا پورے کا پورا ہی سیاحتی علاقہ ہے لیکن ہم یہاں ان چیدہ چیدہ علاقوں کا ذکر کریں گے جو آپ کو زندگی میں ایک بار لازمی دیکھنے چاہئیں۔

ہزارہ ڈویژن

جھیل سیف الملوک

ہزارہ ڈویژن مکمل طور پر ایک سیاحتی علاقہ ہے۔ پنجاب کے ضلع حسن ابدال کے ساتھ ہزارہ ڈویژن کا ضلع ہری پور لگتا ہے۔ یہاں سے شروع ہوکر بشام تک خوبصورت وادیوں، پہاڑوں، ندیوں جھیلوں اور سبزہ زاروں کا ایک خوبصورت سلسلہ سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتا ہے۔ ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالاکوٹ، گڑھی حبیب اللہ، کاغان، ناران، جھیل سیف الملوک، شوگراں اور ایوبیہ ہزارہ ڈویژن کے معروف سیاحتی مقامات ہیں۔

ملاکنڈ ڈویژن

ہزارہ ڈویژن کی طرح ملاکنڈ ڈویژن بھی سارا سیاحتی علاقہ ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن کے اندر کئی اضلاع شامل ہیں جن میں ضلع ملاکنڈ ( سابقہ ملاکنڈ ایجنسی) دیر لوئر، اپر دیر، چترال، بونیر، شانگلہ اور سوات شامل ہیں۔

سوات میں مالم جبہ، وائٹ پیلس، میاندم، مدین، بحرین، وادی کالام، مہوڈھنڈ جھیل، گبرال ویلی، دیسان بانڈہ اور لدو جھیل مشہور سیاحتی مقامات ہیں جبکہ دیر لوئر اور اپر میں تیمرہ گرہ، کمراٹ، شرینگل، تھل، کلکوٹ اور جہاز بانڈہ سیاحوں کیلئے بھرپور کشش رکھتے ہیں۔

تھل کوہستان، اپر دیر کا علاقہ، فوٹو: محمد اکمل خان

چترال کا پورا ضلع ہی سیاحوں کی جنت تصور کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر کیلاش ویلی اور مقامی کیلاشی باشندے پورے ملک کیلئے کشش کا باعث ہیں۔

ماربل انڈسٹری کیلئے مشہور ضلع بونیر اگر چہ تاحال سیاحوں کی توجہ اپنی جانب نہ کھینچ سکا مگر کئی ایسے مقامات ہیں جہاں کی سیر کسی حسین یاد سے کم نہیں ہوگی۔ ان میں سر فہرست کڑاکڑ کا پہاڑی سلسلہ اور اس میں بل کھاتی سڑکیں، پیر بابا کا مزار، ایلم کا پہاڑی سلسلہ، چغرزئی کے برف پوش چٹان اور گھنے جنگلات شامل ہیں۔

شانگلہ ٹاپ کا منظر

ضلع شانگہ بھی اگرچہ سیاحوں کے لیے تاحال غیر معروف ہے مگر قدرتی حسن میں کسی صورت دوسرے علاقوں سے پیچھے نہیں ہے۔ خاص طور پر شانگلہ ٹاپ، جہاں سے آپ سوات کے میدانی علاقوں پر ’فضائی‘ نظر ڈال سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ الپورئی اور خاص طور پر شانگلہ کے مضافاتی علاقوں میں دریائے سندھ کے آر پار واقع وادیاں کسی خواب ناک منظر سے کم نہیں ہیں۔

اگلی قسطوں میں کراچی سے لیکر ہر مقام تک پہنچنے کا راستہ اور مزید تفصیل بتائی جائیں گی۔

(جاری ہے)

نور الہدیٰ شاہین کا تعلق ضلع سوات کے علاقہ کالام سے ہے اور سماء ڈیجیٹل کے اسٹاف رائٹر ہیں۔ مزید معلومات کے لیے کمنٹس سیکشن یا اس ای میل ایڈریس پر رابطہ کیجئے

noorul.huda@samaa.tv

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں