ہوم   >  پاکستان

اگلے مالی سال کیلئے معاشی ترقی کا ہدف 4 فیصد مقرر

3 months ago

اگلے مالی سال کیلئے معاشی ترقی کا ہدف چار فیصد مقرر کردیا گیا ، قومی ترقیاتی پروگرام کے تحت اٹھارہ سو سینتیس ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، خسرو بختیار کہتے ہیں ڈیموں کی تعمیر، بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز اور سی پیک کے منصوبے ترجیحات ہیں تاہم سندھ حکومت نے ترقیاتی بجٹ کم کرنے پر وفاقی حکومت سے احتجاج بھی کردیا۔

وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ ہمارے قومی اہمیت کے منصوبے ہیں، قومی ڈیم ہیں بھاشا، داسو، مہمند ڈیم، انرجی کے اندر ٹرانسمیشن کو فوکس کیا گیا ہے۔ سی پیک کے ایسٹرن کوریڈور کا سکھر حیدر آباد کا منصوبہ بی او ٹی بنیاد پر اسی سال شروع ہوگا۔ دو ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔

پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کی مالی سال دوہزار انیس – بیس کیلئے اٹھارہ سو سینتیس ارب روپے کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی گئی، وفاقی حکومت نو سو پچیس ارب جبکہ صوبے نو سو بارہ ارب روپے خرچ کریں گے، وفاق چھ سو پچھہترارب روپے اپنے خزانے سے فراہم کرے گا جبکہ دو سو پچاس ارب نجی شعبے کے اشتراک سے خرچ کیے جائیں گے۔

وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت صحت اوراعلی تعلیم سمیت سماجی شعبے کی ترقی پر چورانوے ارب خرچ کیئے جائیں گے، جن منصوبوں پر اسی فیصد کام ہوچکا انہیں اگلے سال مکمل کیا جائے گا، ترقیاتی بجٹ میں آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان کیلئے 39 ارب جبکہ سابق فاٹا اضلاع کیلئے 24 ارب رکھے گئے ہیں۔

خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ نالج اکانومی کا بڑا قدم اٹھایا گیا ہے جس میں علاقائی مادی ترقی کی ضروریات خصوصاً بلوچستان، فاٹا، جنوبی پنجاب، سندھ اور پختوانخوا کے پسماندہ اضلاع کیلئے انٹروینشن کی گئی ہے۔

دوسری جانب سندھ کے وزیر معدنیات شبیر بجارانی نے صوبے کی چھتیس ترقیاتی اسکیمیں پی ایس ڈی پی سے نکالنے اور صرف ارب روپے دینے پر شدید اعتراض کیا جبکہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اگلے سال شرح نمو کا ہدف چار فیصد مقرر کیا گیا ہے جس کی حتمی منظوری قومی اقتصادی کونسل سے لی جائے گی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں