ہوم   >  پاکستان

موبائل فون پر نیا فراڈ شروع، خود کو کیسے محفوظ رکھیں

4 months ago

آج کل موبائل فون کے ذریعے ایک نیا فراڈ شروع ہوگیا ہے جس میں ’پریمیم ریٹ سروسز‘ کا غلط استعمال کرکے صارفین کو ہزاروں روپے کے بیلنس سے محروم کیا جارہا ہے یا پھر ان کا بل ہزاروں روپے بڑھ جاتا ہے۔

اس فراڈ کے تحت آپ کو ’بین الاقوامی‘ نمبرز سے مس کال موصول ہوتی ہے جن کے آگے لیتھونیا کا ڈائلنگ کوڈ لگا ہوتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ نمبر لازمی لیتھونیا کا ہی ہو کیوں کہ فراڈ میں کچھ بھی ممکن ہے۔

جب آپ مس کال دیکھ کر اس نمبر پر واپس کال کرتے ہیں تو اسٹینڈرڈ کال چارجز کے ساتھ آپ کا سارا بیلنس اڑ جاتا ہے۔ اگر آپ پوسٹ پیڈ کسٹمر ہیں تو پھر آپ کا ماہانہ بل ہزاروں تک چلا جاتا ہے اور یہ پیسے انہی فراڈیوں کو جاتے ہیں۔

 

عام طور پر ہم جب اپنے فون سے کسی کو کال کرتے ہیں تو ہمارے اکاؤنٹ سے کٹنے والے پیسے متعلقہ موبائل کمپنی کو جاتے ہیں مگر اس فراڈ میں کال ریٹ کے علاوہ کٹنے والے پیسے موبائل کمپنی اور فراڈی میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ اس فراڈ میں ’پریمیم ریٹ سروسز‘ کا استعمال غلط استعمال ہورہا ہے۔

پریمیم ریٹ سروسز کیا ہے

پریمیم ریٹ سروسز کو آسان الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کال سے پیسے کمانا۔ یعنی آپ کو جو کال موصول ہوگی، اس پر آپ کو پیسے ملیں گے اور یہ پیسے اس بندے کے اکاؤنٹ سے کٹ جاتے ہیں جو کال کرتا ہے۔

 اس سروس کے تحت موبائل کمپنی یا کوئی بھی تھرڈ پارٹی آپ کو بھاری چارجز کے بدلے میں کوئی مخصوص سہولت فراہم کرتی۔ اس کیلئے وہ پہلے سیلولر کمپنی سے ایک نمبر خریدتے ہیں جو کہ عام استعمال کے نمبروں سے مختلف ہوتا ہے۔ پھر اس نمبر سے صارفین کو ’خدمات‘ فراہم کرتے ہیں۔

 مثال کے طور پر پی ٹی سی ایل کے زمانے میں صارفین ایک نمبر پر کال کرکے اپنی مرضی کے گانے سن سکتے تھے اور مہینے کے آخر میں جب بل آتا تھا تو سر پکڑ کر بیٹھ جاتے۔ آج کل بھی جیسے کرکٹ کے دنوں میں آپ کسی نمبر کو ڈائل کرکے کمنٹری سن سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ بعض نمبرز پر کال کرکے آپ تلاوت، نعتیں اور گانے بھی سنتے ہیں۔

یہ ایک قانونی سروس ہے مگر کافی مہنگی ہے۔ اس میں عام طور پر ایک منٹ کے کئی روپے کٹ جاتے ہیں۔ وہی پیسے پھر آپ کی سیلولر کمپنی اور مطلوبہ سہولت فراہم کرنے والی تھرڈ پارٹی میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ مگر اس کے ذریعے اب یہ فراڈ شروع ہوگیا کہ موبائل صارفین کو ان پریمیئم ریٹ نمبرز سے مس کال موصول ہوتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے کسی رشتہ دار یا دوست کی مس کال ہے۔ پھر جب وہ اس پر کال بیک کرتے ہیں تو بیلنس سے محروم ہوجاتے ہیں۔

اس لیے موبائل فون کے تمام صارفین کسی بھی ’عجیب نمبر‘ سے موصول ہونے مس کال کو سنجیدہ لیکر دوبارہ کال کرنے سے گریز کریں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں