Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

چائنیز لڑکوں سے شادی ، پولیس مسیحی لڑکیوں کو پریشان کرنے سے باز رہے، عدالت

SAMAA | - Posted: May 21, 2019 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: May 21, 2019 | Last Updated: 3 years ago

میاں چنوں ميں دو مسيحي لڑکيوں کي چيني لڑکوں سے پسند کي شادي کی تو پوليس لڑکيوں کو چين جانے سے روکنے کے لئے ہراساں کرنے لگي، لڑکياں معاملے کو عدالت لے گئيں جہاں لاہور ہائيکورٹ ملتان بينچ نے پوليس کو حکم ديا کہ وہ لڑکيوں کو پريشان کرنے سے باز رہے ۔

چائینیز لڑکوں سے شادی کرنے والي میاں چنوں کی مسیحي لڑکیوں کے ہراسانی کیس کی سماعت لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ میں ہوئی۔

درخواستگزار مسیحي لڑکیاں لائبہ اور سونا عدالت میں پیش ہوئیں جن کا موقف تھا کہ انہوں نے چائینز لڑکوں سے پسند کی شادی کی مگر پولیس انہيں چين جانے سے روکنے کيلئے حراساں کررہي ہے، عدالت نے پولیس کو مسیحي لڑکیوں کو پريشان نہ کرنے کا حکم دے دیا ۔

پاکستانی لڑکیوں کی چینی لڑکوں سے شادی کروانے والے گروہ کی سرغنہ گرفتار

وکیل کا کہنا تھا کہ آج جسٹس رسال حسن نے ایف آئی اے اور ڈی پی او خانیوال کو ڈائریکشن کردی ہے کہ پٹیشنر لائبہ اور سونا کو الیگل حراساں اور پریشان نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی کو ٹریول کرنے سے روکا جائے۔

لائبہ کی شادی چائینیز مافو کینگ سے 12 مارچ 2019 جبکہ سونا سرفراز کی شادی زینگ ینگاو سے 28 دسمبر 2018 کو مسیحي شادی ایکٹ کے تحت ہوئی تھي ۔

مسیحی لڑکی کے مطابق عدالت نے آج صحیح فیصلہ سنایا ہے کہ میں چائنا جاسکتی ہوں اور یہ شادی میرے گھر والوں اور میری پسند سے ہوئی تھی۔

عدالتی فیصلے پر دونوں مسیحي لڑکیاں اور ان کے اہل خانہ خوش نظر آئے ۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube