پاکستان سٹیزن پورٹل: آپ کی شکایات کیسے درج ہوں گی؟

May 18, 2019

پاکستانی شہریوں کو اپنی شکایات حکومت تک پہنچانے کیلئے موبائل ایپلی کیشن پاکستان سٹیزن پورٹل گزشتہ سال متعارف کرائی گئی تھی۔

سماء ڈیجیٹل نے سٹیزن پورٹل کی خبر دی تو شہریوں نے غلطی سے اسے ہی اپنی شکایتوں کے اندراج کا ذریعہ سمجھ لیا اور اپنے مسائل کمنٹس میں لکھنا شروع کردیئے، جس میں گھروں کے باہر گندے پانی، خراب سڑکوں، سرکاری افسران کی رشوت ستانی اور سڑکوں پر کچرا پھینکنے جیسی شکایات شامل ہیں۔

سماء ڈیجیٹل نے نعمان ناظم سے بات کی۔ نعمان ناظم اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا اور پاکستان سٹیزن پورٹل پر آنے والی شکایات کو دیکھتے ہیں۔

انہوں نے پورٹل کی کامیابی کی کچھ کہانیاں بھی ہمیں بتائیں۔ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ نرخ پر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایات کے آنے کے بعد مختلف کیش اینڈ کیری سینٹرز پر ڈی سی ریٹس کاؤنٹر بنادیے گئے ہیں۔

ڈائیوو سے سفر کرنے والے مسافروں کیلئے ٹک شاپس پر بیچی جانے والی اشیا مہنگی ہوتی ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر نے تحقیقات کروائیں اور قیمتوں کا تعین کردیا۔

آفس کے اوقات میں اسلام آباد ایکسپریس وے پر ٹریفک کے اژدھام کی شکایت موصول ہونے پر دفتری اوقات کی شروعات اور اختتام پر بڑی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگادی گئی۔

ایک شکایت یہ بھی موصول ہوئی کہ اسلام آباد کی شہری انتظامیہ کی آن لائن گاڑیوں کا تصدیقی نظام جو ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے تحت ہے، کئی مہینوں سے کام نہیں کررہا۔ اب 0262777 اور 0163012 پر رابطہ کر کے بھی شکایات درج کروائی جاسکتی ہیں۔

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں متعدد بار جانے کے باوجود شہری اپنی گاڑی کیلئے اسمارٹ کارڈ نہیں پرنٹ کروا پاتے تھے۔ اب پہلی وزٹ کے بعد جب اسمارٹ کارڈ تیار ہوجائے گا شہری کو ایس ایم ایس الرٹ جاری کردیا جائے گا۔

ایک شہری نے شکایت درج کروائی کہ وفاقی دارالحکومت میں واقع پمز اور پولی کلینک اسپتالوں میں بیرون شہر سے آنے والے مریضوں کے رشتہ داروں کیلئے رہائش نہ ہونے کے باعث ان کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس شکایت کے حل کیلئے مریضوں کے ساتھ آنے والے لوگوں کیلئے ایک مستقل جگہ کا قیام عمل میں آگیا۔

جن شکایات پرعمل درآمد کیا گیا ان میں کچھ حکومتی اداروں کی جانب سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا مسئلہ بھی تھا۔

اگر آپ بھی کسی مسئلے سے دوچار ہیں تو 1360348، 1837300، 1806489، 1569237، اور 1512723 ان نمبروں پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

ایک شادی شدہ عیسائی عورت کے اغواء اور زبردستی تبدیلی مذہب کے حوالے سے بھی شکایت درج ہوئی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے معاملے کی تفتیش کروائی اور اس عورت کو انصاف دلایا اور نامزد ملزم کے خلاف قانون کی متعلقہ شق کے تحت مقدمہ دائر کرا دیا گیا۔

ماتحت عدلیہ میں مقدمات میں حد سے زیادہ تاخیر ہونے سے متعلق بھی ایک شکایت درج کی گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ چھوٹے موٹے جرائم سے متعلق مقدمات کی تیز تر سماعت کیلئے روزانہ کی بنیاد پر ایک رپورٹ جمع کروائی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ بھی بہت سے دیگر مسائل کے حوالے سے آنے والی شکایات پر اسلام آباد کی انتظامیہ نے ایکشن لیا اور معاملے کو حل کیا۔

اسلام آباد کی انتظامیہ کی عملداری میں 21 ڈیپارٹمنٹ ہیں اور ہر ڈیپارٹمنٹ کی سٹیزن پورٹل پر علیحدہ آئی ڈی ہے، جس کے ذریعے آپ اپنی شکایت کو براہ راست ان تک پہنچا سکتے ہیں۔

پورٹل پر آنے والی شکایات کتنی اچھی طرح سے حل کی جارہی ہیں، اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اسلام آباد انتظامیہ کے سربراہ چیف کمشنر عامر علی احمد اور ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات اس عمل کی نگرانی خود کرتے ہیں جبکہ ہر ڈیپارٹمنٹ نے اپنے نمائندے بھی نامزد کیے ہوئے ہیں جن کے کام میں نعمان ناظم مدد کرتے ہیں۔