کالا دھن سفید کرانے کی اسکیم، صدر مملکت نے آرڈیننس جاری کردیا

May 15, 2019

ڈیڑھ سے 4 فیصد تک ٹیکس دو اور اپنے غیرقانونی اثاثے قانونی کروا لو، بیرون ملک موجود اثاثے وہیں رکھنے پر 6 فیصد ٹیکس دینا ہوگا، صدر مملکت عارف علوی نے  آرڈیننس جاری کردیا۔

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا یہ آرڈیننس فوری طور پر پورے ملک میں نافذ العمل ہوگا، بے نامی بینک اکاؤنٹ رکھنے والے بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔

کالا دھن سفید کرنے کا قانون نافذ، ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا صدارتی آرڈیننس جاری ہوگیا۔

صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے جاری آرڈیننس کے مطابق ملک اور بیرون ملک خفیہ اثاثے 30 جون تک ظاہر کرنا لازم ہوں گے، اثاثوں پر ٹیکس پورا سال جمع کرایا جاسکے گا، 3 ماہ کی تاخیر پر 10 فیصد اضافی سرچارج لاگو ہوگا جو ہر سہ ماہی پر 10 فیصد بڑھتا جائے گا۔

ملک میں موجود  جائیداد کو ڈیڑھ فیصد جبکہ بیرون ملک اثاثوں اور جائیدادوں کو 4 فیصد ٹیکس ادا کرکے قانونی بنایا جاسکتا ہے، بینک اکاؤنٹس، شیئرز اور بانڈز اگر ملک سے باہر رکھے گئے تو ٹیکس شرح 4 کے بجائے 6 فیصد ہوگی۔

آرڈیننس کے مطابق مقررہ مدت کے دوران ٹیکس ادا نہ کرنے پر 40 فیصد، تک اضافی سرچارج ادا کرنا پڑے گا، 30 جون 2019ء کے بعد 30 ستمبر تک ٹیکس ادا کرنے کی صورت میں 10 فیصد جرمانہ لگے گا، دوسری سہ ماہی میں ٹیکس کی رقم پر جرمانہ بڑھ کر 20 فیصد، تیسری سہ ماہی پر 30 فیصد اور چوتھی سہ ماہی پر 40 فیصد ہوجائے گا۔

صدرارتی آرڈیننس کی رو سے پاکستان میں ظاہر کردہ بیرونی اثاثوں اور فارن کرنسی پر ٹیکس بھی فارن کرنسی میں ادا کرنا ہوگا، ظاہر کردہ کیش کسی بینک اکاؤنٹ میں جمع کرانے کی شرط بھی عائد کردی گئی۔

یہ اسکیم کسی پبلک کمپنی، منی لانڈرنگ یا دیگر مجرمانہ سرگرمیوں سے کمائی ہوئی دولت اور عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی حامل جائیدادوں پر لاگو نہیں ہوگی۔