Wednesday, August 5, 2020  | 14 Zilhaj, 1441
ہوم   > Latest

اس مہنگائی میں صرف نسوار ہی سستی ہے

SAMAA | - Posted: Apr 28, 2019 | Last Updated: 1 year ago
Posted: Apr 28, 2019 | Last Updated: 1 year ago

 

جب آپ عطاء اللہ کی دکان میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کو مختلف اقسام کا تمباکو تھیلیوں میں لپٹا ہوا ملے گا اور ہر پیکٹ پر علیحدہ ٹریڈ مارک نظر آتا ہے جو زیادہ تر جنگلی حیات کے نام ہوتے ہیں۔ جیسے کہ ڈبل شیر، بلیک کوبرا، بچھو، کالی بلی، تیتر سمیت کچھ دیگر نام شامل ہیں۔ اس ورائٹی میں اسپیشل اور بمبار بھی قابل ذکر ہیں جبکہ مختلف رنگوں کی نسوار بھی مختلف ٹریڈ مارک کے ساتھ پیک کرکے رکھی گئی ہے۔

سانگھڑ میں عطاء اللہ اپنے والد کے ہمراہ گزشتہ 30 سال سے نسوار کی دکان چلا رہے ہیں اور ان کے پاس 20 اقسام کی نسوار دستیاب ہے جن کی درجہ بندی نشے کی مقدار کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

لاکھانو اور کرم علی نسوار کے عادی اور عطاء اللہ کے کسٹمرز ہیں۔ لاکھانو کا کہنا ہے کہ وہ ’ٹریکٹر برانڈ‘ کو ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ اس میں نشہ زیادہ ہے جبکہ نگرپارکر سے تعلق رکھنے والے مزدور  کرم علی نے بتایا کہ مجھے ’اسپیشل‘ نسوار پسند ہے کیوں کہ یہ ایک بار لگانے کے بعد پورا دن گزر سکتا ہے۔ کرم علی کا کہنا ہے کہ وہ اب نسوار چھوڑ بھی نہیں سکتا کیوں کہ اس کے ذریعے مدہوشی ملتی ہے۔

عطا اللہ کے پاس اپنے صارفین کو خوش رکھنے کیلئے بہت کچھ ہے۔انھوں نے بتایا کہ الائچی والی نسوار خوشبو کیلئے خریدی جاتی ہے، جب یہ منہ میں رکھی جاتی ہے تو ایک خوشگوار مہک محسوس ہوتی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ نسوار کا آغاز امریکا سے ہوا اور 17 ویں صدی میں جب یورپ کے مغربی علاقوں میں سگریٹ پر پابندی لگی تو یہاں بھی لوگوں نے متبادل کے طور پر نسوار کا استعمال شروع کیا اور کچھ ہی عرصے میں یہاں نسوار کافی عام ہوگئی۔

پاکستان کے علاوہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے ممالک میں بھی پاؤڈر تمباکو کا استعمال عام ہے۔ ان ممالک میں افغانستان، انڈیا، ایران، قازقستان، روس، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

نسوار تمباکو کے پتوں، کیلشیم اُکسائیڈ اور لکڑی کی راکھ سے تیار کی جاتی ہے، اس کی لت کسی بھی عمر میں لگ سکتی ہے اور اس میں جنس کی بھی کوئی تفریق نہیں، مرد و خواتین یکساں طور پر اس کے شوقین ہوتے ہیں۔

نسوار کا طریقہ استعمال یہ ہے کہ ہر فرد اپنے حساب سے ایک دانہ ( چونڈے) بناکر کافی دیر تک زبان کے نیچے، نچلے ہونٹ کے پیچھے یا داڑھ اور گال کے درمیان رکھتا ہے جبکہ بعض افراد صرف سونگھتے بھی ہیں۔

حالیہ مہنگائی کا حوالہ دیتے ہوئے عطا اللہ نے کہا کہ بجلی، پٹرولیم اور مصنوعات سمیت دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا کی طرح تمباکو سے تیار ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا مگر نسوار کی قیمت آج بھی وہی ہے جو دو سال پہلے تھی۔

نسوار پر ابھی تک پاکستان میں کوئی ٹیکس عائد نہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ تمباکو سے تیار ہونے والی دیگر اشیا کے مقابلے میں نسوار بہت سستی ملتی ہے۔

مارچ 2019 میں مہنگائی 9 اعشاریہ 14 فیصد کے ساتھ 5 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس کے نتیجے میں تمباکو کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا مگر نسوار کی پرانی قیمت برقرار ہے جس کے باعث سگریٹ اور تمباکو سے تیار ہونے والی دیگر چیزوں کے عادی افراد نے نسوار شروع کردی ہے۔

عطا اللہ کا کہنا ہے کہ نسوار غریب کا نشہ ہے، امیر لوگ سگریٹ پیتے ہیں، مہنگائی کے باوجود نسوار کی قیمت نہیں بڑھی، اس مہنگائی میں صرف نسوار ہی سستی ہے۔ ایک پیکٹ نسوار کی قیمت 7 روپے سے شروع ہوکر کوالٹی کے حساب سے 10 روپے تک ہوتی ہے اور ایک پیکٹ میں ایک دن آرام سے نکل جاتا ہے۔

پاکستان میں نسوار پر اب تک کوئی مستند تحقیق نہیں ہوئی مگر 2011 میں ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق سب سے زیادہ نسوار خیبر پختونخوا میں استعمال کی جاتی ہے اور وہاں کی 15 فیصد آبادی اس کی عادی ہے۔

نسوار کے ایک اور تاجر امانت علی کا ماننا ہے کہ وہ زمانہ گزر گیا جب نسوار کو صرف پختونوں سے منسوب کیا جاتا تھا۔ تمباکو سے تیار ہونے والی دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے بعد دیگر زبانیں بولنے والوں کی بڑی تعداد نے بھی نسوار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

امانت علی کا کہنا ہے کہ پہلے صرف پٹھان اور بروہی استعمال کرتے تھے اور آج سندھی، پنجابی اور مہاجر بھی خوب نسوار کھاتے ہیں۔

پاکستان میں نسوار کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ اس کا تمباکو پنجاب کے بعض علاقوں اور بلوچستان میں اُگایا جاتا ہے جبکہ افغانستان سے بھی درآمد کیا جاتا ہے۔

نسوار میں تیزاب کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس میں شامل نیکوٹین سمیت دیگر کیمیکلز منہ کے ساتھ مجموعی طور پر بھی صحت کیلئے مضر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نسوار سے لگنے والی بیماری سگریٹ کے مقابلے میں زیادہ مہلک اور خطرناک ہوتی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube