بارشیں و برفباری، عوام کو تکلیف قدرت کی نہیں نظام کی وجہ سے ہوئی، وزیراعلیٰ بلوچستان

April 25, 2019

وزیرعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا کہنا ہے بلوچستان میں شدید خشک سالی کے بعد بارشیں اور برفباری ہوئی، لوگوں کو تکلیف قدرت کی وجہ سے نہیں بلکہ نظام کی وجہ سے ہوئی۔ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کیخلاف مذتی قرار داد بھی پیش کی گئی۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر بابر موسیٰ خیل کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں حزب اختلاف کی جانب سے توجہ دلاؤ نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ جام کمال خان کا کہنا تھا کہ جب اقتدار سنبھالا تو بلوچستان خشک سالی سے متاثر تھا ہم نے ایمرجنسی لگا کر پورے صوبے کو آفت زدہ قرار دیا، صوبے میں کافی بارش اور برفباری ہوئی، جس پر قدرت سے ناشکری کے بجائے باران رحمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ شدید خشک سالی کے بعد بارشیں اور برفباری ہوئی، یہ اللہ کا عذاب نہیں، عوام کو تکلیف قدرت کی وجہ سے نہیں بلکہ نظام کی وجہ سے ہوئی، ہم اتنے سالوں میں پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیمز ہی نہیں بناسکے۔

اس سے قبل حزب اختلاف کے اراکین نے توجہ دلاؤ نوٹس پر کہا کہ بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کی تقسیم درست طور پر نہیں ہوئی، انتظامیہ بھی ارکان اسمبلی کی بات سننے کو تیار نہیں،

وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء لانگو کا کہنا تھا کہ متاثرین کی امداد ڈپٹی کمشنرز کی نگرانی میں ہورہی ہے، متاثرین کیلئے طلب سے زیادہ خیمے بھجوائے گئے ہیں۔

اجلاس میں ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے رکن قادر نائیل نے بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کیخلاف مذمتی قرار داد پیش کی، جس میں کہا گیا کہ ہزار گنجی سبزی منڈی میں 21 بے گناہ افراد شہید اور 30 سے زائد زخمی ہوئے، اندوہناک واقعہ بلوچستان کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی مذموم سازش ہے، اورماڑہ اور چمن میں دہشتگردی کے واقعات کی بھی مذمت کرتے ہیں۔

قرار داد میں میں دشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت اور لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ اسپیکر نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات سے صوبائی پی ایس ڈی پی سے متعلق تمام تفصیل 27 اپریل تک ایوان میں پیش کرنے کی رولنگ بھی دی۔