ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان آنا نہیں چاہتیں، دفتر خارجہ

April 24, 2019

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان آنا نہیں چاہتی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے دی اڈی پینٹنڈ سے خصوصی گفت گو میں ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ حکومت پاکستان عافیہ صدیقی کے واپسی کے پہلوؤں کو دیکھ رہی ہے، تاہم ان کی اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی خود پاکستان نہیں آنا چاہتی ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم عمران خان کی مستقبل میں ملاقات ہوئی تو عافیہ صدیقی اور شکیل آفریدی کے تبادلے پر بات ہوسکتی ہے۔ پاکستانی کی خارجہ پالیسی اچھی چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں گزشتہ برس ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کر کے امریکا سے اس معاملے کو اٹھانے کے درخواست بھی کی تھی۔

وزیر خارجہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے ممکنہ طریقے پر غور کر رہے ہیں۔ اس سے قبل ہیوسٹن میں موجود قونصلر جنرل عائشہ فاروقی نے بعد میں وزیر خارجہ کی ہدایت پر ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات بھی کی تھی۔

بھارت کے ساتھ تعلقات

ڈاکٹر فیصل کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی انتخابات کے بعد نئی حکومت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی امید ہے، تاہم پاکستان، بھارت کے درمیان خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے، پاکستان تو مشکل وقت میں بھی بھارت کے ساتھ مثبت رویہ رکھتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں جو بھی نئی حکومت آئے گی پاکستان اس کے ساتھ امن مذاکرات کی بات آگے بڑھانا چاہے گا، لیکن بھارت نے 14ستمبر 2018 کو لکھا گیا پاکستانی وزیر اعظم کا خط جس میں امن مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے اس کا ابھی تک جواب نہیں دیا۔ امید ہے نو منتخب حکومت سات ماہ پرانے خط کا جواب دے گی۔

عافیہ صدیقی کی بہن کا ردعمل

ترجمان دفتر خارجہ کے بیان پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ عافیہ خود پاکستان آنا نہیں چاہتیں تو یہ مکمل طور پر بے بنیاد بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی طرف سے عافیہ کی رہائی سے متعلق مارچ تک خوشخبری کی بات کی گئی تھی لیکن اب پھر خاموشی چھا گئی ہے۔

آسیہ بی بی

توہین مذہب کے الزام سے بریت پانی والی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے حوالے سے ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ آسیہ بی بی اب تک پاکستان میں موجود ہیں اور یہ کہنا کہ وہ ملک سے جا چکی ہیں درست نہیں ہے۔ وہ محفوظ مقام پر پاکستان میں ہی موجود ہیں لیکن جب عدالتی فیصلہ آچکا ہے تو آسیہ بی بی کو چلے جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں وہ جلد پاکستان سے چلی جائیں گی۔