قبضہ مافیا نے پشاور کی تاریخی دیوار کا بڑا حصہ گرادیا، مقدمہ درج

April 23, 2019

پشاور میں تاریخی ورثے کو بڑا نقصان پہنچادیا گیا، کوہاٹی کے علاقے میں رات گئے 150 سالہ قدیم شہر کی فصیل کا بڑا حصہ گرادیا گیا۔

تاریخی دیوار کے 57 فٹ حصے کو گرا کر اس کے قریب غیر قانونی طور پر زیر زمین تعمیر کیلئے کھدائی بھی شروع کردی گئی۔

محکمہ آثار قدیمہ و میوزیم نے تھانہ کوتوالی میں دیوار گرانے کے ذمہ داران کیخلاف آثار قدیمہ ایکٹ 2016ء کے سیکشن 44 (4) کے تحت ایف آئی آر درج کرادی، جس کے تحت آثار قدیمہ اور تاریخ کو نقصان پہنچانے کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے، جرم ثابت ہونے پر 2 سال قید اور 5 لاکھ روپے کی سزا ہوسکتی ہے۔

ترجمان محکمہ آثار قدیمہ نواز الدین نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دیوار گزشتہ رات قریب ہی جائیداد رکھنے والے افراد نے گرائی، یہ زمین ایک خاتون کی ملکیت ہے اور ہم نے مالکان کیخلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

نواز الدین کا کہنا ہے کہ دیوار جان بوجھ کر گرائی گئی، کیونکہ اس سے مذکورہ جائیداد کے مرکزی شاہراہ تک رسائی کا راستہ رکتا تھا۔

ترجمان محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق تاریخی دیوار کی باقیات کا یہ سب سے بڑا حصہ تھا، جس کے 200 فٹ میں سے 57 فٹ گرادیا گیا، ڈائریکٹریٹ کی ایک ٹیم نے اس جگہ کا دورہ کیا اور دیوار کو مزید نقصانات سے بچانے کیلئے کام رکوا دیا۔

ڈسٹرکٹ ناظم پشاور نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ٹاؤن میونسپل آفیسر، ٹاؤن 2 سے 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی۔

پشاور شہر کی فصیل مغل دور میں تعمیر کی گئی تھی جبکہ اسے سکھ دور میں دوبارہ بحال کیا گیا، دیوار کو موجودہ شکل برطانوی راج میں دی گئی۔ دیوار کا اکثر حصے پر قبضہ کیا جاچکا ہے جبکہ کوہاٹی میں واقع یہ حصہ سب سے بڑی باقیات ہیں۔