کراچی میں آئس اور کرسٹل کے بعد نئے نشے کا انکشاف

April 23, 2019

کراچی میں نیا نشہ نوجوان نسل کے بگاڑ کا باعث بن رہا ہے، چرس ہیروئین آئس اور کرسٹال کے بعد کیفین پاؤڈرنشے کے طور پراستعمال ہورہا ہے، یہ سب کیسے ہورہا ہے،اس نئے نشے کا انکشاف کیسے ہوا۔

کیفین ایک اسٹمولنٹ ہے جسے کافی اور انرجی ڈرنکس کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے، ایک ٹی سپون پاوڈرکیفین کا ڈوز اٹھایئس کافی کے کپس کے برابر ہے، کیفین پاوڈر کو کاغذ پر جلا کر اس کو سونگھا جاتا ہے، جس کے بعد انسان خود کو چست محسوس کرتا ہے، نیند اُڑ جاتی ہے اور بھوک پیاس نہیں لگتی۔

ایکسائز اینڈ نارکوٹکس پولیس انسپکٹر سید صادقین نقوی کے مطابق کیفین کو آئس کے متبادل استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ آئس کے نشے سے سستا ہے، 10 گرام آئس شہر میں پانچ ہزار سے دس ہزار میں فروخت ہوتی ہے جبکہ 10 گرام کیفین پاوڈر 600 روپے میں دستیاب ہے۔

چین: آئس نشے کے گاڈ فادرکو پھانسی دے دی گئی

اس نشے کی کراچی میں موجودگی کا پتہ کیسے چلا نومبر 2016 میں ایکسائز اینڈ نارکوٹکس پولیس نے کراچی کے علاقے ملیر میں واقع گھر پر چھاپہ مار کر تین کلوگرام سے زائد نشہ آور پاوڈر برآمد کیا گیا اور 65 سالہ خاتون کو گرفتار کیا۔

برآمد شدہ نشہ آور پاوڈر پی سی ایس آئی آر ٹیسٹ کے لیے بھیجا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا یہ نشہ آور پاوڈر آئس ہے، لیبارٹی سے پتہ چلا کہ یہ آئیس نہیں ہے بلکہ کیفین پاؤڈر ہے۔

اپریل 2018 میں امریکہ اور جورجیا میں کیفین کے استعمال سے دو اموات رپورٹ ہونے کے بعد امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے کیفین کی کھلے عام فروخت پر پابندی لگا رکھی ہے لیکن کراچی میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔