سندھ مدرسۃ الاسلام کالج میں جھگڑے کے باعث پرچہ ملتوی، طلبہ کا احتجاج

April 23, 2019

کراچی کے سندھ مدرستہ الاسلام کالج میں اساتذہ کے جھگڑے کے باعث انٹرمیڈیٹ کا پرچہ ملتوی ہوگیا جس کے باعث 500 سے زائد طلبہ نے کالج کے گیٹ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

سندھ مدرسۃ الاسلام ماڈل اسکول اور ایس ایم سائنس کالج کے پاس ایک ہی گراؤنڈ ہے اور دونوں کی سرگرمیاں اس میں منعقد ہوتی ہیں۔ منگل کی صبح گراؤنڈ میں اسکول کی اسمبلی جاری تھی کہ اس دوران کالج کی پرنسل غزالہ ارشد گیٹ کے اندر داخل ہوئی اور گراؤنڈ میں اسکول کی اسمبلی کا خیال کیے بغیر گاڑی اندھا دھند دوڑا دی جس کے باعث تین طلبہ زخمی ہوگئے۔

کالج پرنسپل کی اس حرکت پر اسکول کی پرنسپل اور اساتذہ طیش میں آگئے اور انہوں نے غزالہ ارشد کا گھیراؤ کرلیا۔ پھر اس کے دفتر میں جاکر ہاتھا پائی کی۔ جس پر غزالہ ارشد نے انٹر سال اول کا اردو کا پرچہ لینے سے انکار کردیا۔ واضح رہے کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات جاری ہیں۔

اردو کا پرچہ ملتوی ہونے کے بعد 500 سے زائد طلبہ نے کالج کے گیٹ پر احتجاج کیا مگر کوئی شنوائی نہ ہوسکی۔

‎دوسری جانب ناظم امتحانات انٹر بورڈ عظیم صدیقی کے مطابق طلبہ کا پیپر منسوخ کردیا گیا ہے۔ امتحان کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

دریں اثنا پولیس نے بھی واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔