غلط انجکشن کے بعد بھی بروقت علاج ہوتا تو نشوہ بچ سکتی تھی، رپورٹ

April 23, 2019

کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر کے نجی اسپتال میں غلط انجکشن لگنے سے 9 ماہ کی نشوہ کی موت سے متعلق وزیرِ اعلیٰ سندھ کی جانب سے تشکیل کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ پیش کردی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ غفلت و لاپراہی سے غلط انجکشن لگانے کے بعد بھی اگربروقت علاج کرلیا جاتا تو بچی کی زندگی بچائی جاسکتی تھی مگر بعد میں بھی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔

 رپورٹ کے مطابق اسپتال میں غلط انجکشن نے نشوہ کے دماغ، دل اور جگر کو متاثر کیا۔ جب بچی کی حالت انتہائی بگڑ گئی تو اس وقت بھی اسپتال عملہ نے توجہ نہیں دی۔ اگر وہ بروقت حرکت میں آکر علاج کردیتے تو بچی کو بچایا جاسکتا تھا۔

وزیراعلیٰ کو پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچی کے پوسٹ مارٹم کیلئے نمونے حاصل کرلئے ہیں۔ حتمی رپورٹ نمونوں کے نتائج آنے کے بعد دی جائے گی۔ بچی کے جسم سے حاصل نمونوں کا فارنزک معائنی بھی کیا جائے گا۔