کورنگی اسپتال میں غلط انجکشن سے ہلاکت،پولیس کو فرانزک رپورٹ کا انتظار

April 21, 2019

کراچی کے علاقے کورنگی کے سرکاری اسپتال میں غلط انجکشن سے لڑکی کی ہلاکت کے معاملے پر پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے۔ رپورٹ سامنے آنے پر ہی معاملہ واضح ہوگا۔

گزشتہ ہفتے جمعرات کے روز ابراہیم حیدری کی رہائشی 25 سالہ عصمت دانت کے درد کا علاج کرانے گورنگی نمبر پانچ میں واقع سرکاری اسپتال گئی تھی۔ سماء ڈیجیٹل سے گفت گو میں عصمت کے بھائی غلام محمد کا کہنا تھا کہ میری بہن بالکل ٹھیک تھی اور دانتوں کے معمول کے چیک اپ کیلئے صبح 10 بجے گھر سے اسپتال کیلئے نکلی تھی، تاہم وہ دوپہر ایک بجے تک بھی گھر واپس نہ آئی۔

غلام محمد کے مطابق والدہ نے عصمت سے رابطہ کرنا چاہا مگر رابطہ ممکن نہ ہوسکا۔ بعد ازاں ہمیں ایک نمبر سے کال موصول ہوئی کہ عصمت کی طبعیت خراب ہے، آپ لوگ جناح اسپتال آجائیں، ہم لوگ جناح اسپتال جانے کیلئے نکلے تو راستے میں ہمیں دوبارہ دوسرے شخص کی کال آئی کہ آپ لوگ جناح اسپتال کے بجائے کورنگی نمبر پانچ کے سرکاری اسپتال پہنچے، جس پر ہم وہاں روانہ ہوئے۔

دوسری جانب اسپتال میں کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ عصمت پہلے اسی اسپتال میں قائم نجی این جی او کے "تپ دق" یعنی ٹی بی کیلئے بنائے گئے یونٹ میں کام کرتی تھی، تاہم بعد میں اس نے نوکری چھوڑ دی تھی۔ عصمت کے بھائی غلام محمد نے بھی گفت گو میں بتایا کہ وہ اپنی بہن کے ہمراہ اسی این جی او کے ٹی بی یونٹ میں کام کرتا تھا مگر بعد میں استعفی دے دیا تھا، میرے بعد میری بہن نے بھی یہاں سے ملازمت چھوڑ دی تھی۔

پولیس نے واقعہ کا مقدمہ عصمت کے بھائی کی مدعیت میں تین ملزمان کے خلاف درج کرلیا۔ ایف آئی آر میں نامزد تین ملزمان شاہ زیب، علی اور عامر کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جب کہ ایک ملزم ڈاکٹر ایاز تاحال مفرور ہے۔ شاہ زیب بھی اسی اسپتال میں قائم نجی این جی او کے ٹی بی یوںٹ میں ملازمت کرتا ہے۔

پولیس کے مطابق دوران تفتیش ملزم شاہ زیب کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ایاز نے اسے ایک پرچی پر انجکشن کا نام لکھ کر دیا اور کہا کہ یہ لے کر آو، لڑکی کو جیسے ہی انجکشن لگایا تو اس کی حالت خراب ہوگئی۔ شاہ زیب کا مزید کہنا تھا کہ طبعیت زیادہ خراب ہونے پر لڑکی کو اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے چیک اپ کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا۔

عصمت کے بھائی نے اسپتال انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری بہن کو غلط انجکشن لگا کر قتل کیا گیا، جب کہ پولیس کا کہنا ہے کہ حتمی نتائج فرانزک رپورٹ سامنے آنے پر ہی واضح ہونگے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق عصمت کے جسم پر کسی قسم کے تشدد یا زخم کے نشانات نہیں پائے گئے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسپتال کے ریکارڈ میں عصمت کا نہ کوئی ریکارڈ موجود ہے اور نہ ہی وہ پرچی سامنے آسکی، جس پر انجکشن کا نام لکھ کر دیا گیا تھا۔