ڈاکو راج نے سندھ سے انڈس بلائنڈ ڈولفن کو ختم ہونے سے کیسے بچایا؟

April 21, 2019

سندھ میں 1980 کی دہائی اور اس کے بعد سے ڈاکو راج نے دریائے سندھ کے کنارے سے مقامی ماہی گیروں اور جنگلی حیات کا غیر قانونی شکار کرنے والوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔ تازہ اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ خطرے سے دو چارانڈس بلائنڈ ڈولفن کی آبادی اس کے بعد سے مسلسل بڑھنے لگی، ماہرین اس کی وجہ غیر قانونی شکار میں کمی کے علاوہ ماحولیات کے تحفظ سے متعلق کی جانے والی کوششوں کو قرار دیتے ہیں۔

سندھ بلائنڈ ڈولفن کے تحفظ کے ذمہ دار سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے 8 سے 12 اپریل تک گڈو اور سکھر بیراج سے متعلق آبادی سروے کرایا جس کے مطابق ان ڈولفنز کی تعداد ایک ہزار 419 ہو چکی ہے جبکہ سال 1972 میں کرائے جانے والے پہلے سروے میں یہ تعداد صرف 132 تھی۔

مقامی زبان میں دریائے سندھ میں پائی جانے والی ڈولفنز کو ’’بلہن ‘‘ کہا جاتا ہے۔ قدرتی ماحول کے تحفظ کیلئے بین القوامی تنظیم ’’ انٹرنینشل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این )‘‘ نے اس سمندری میمل کو خطرے سے دوچارانواع کی ریڈ لسٹ میں رکھا ہے۔ انڈس ریور بلائنڈ ڈولفنز کا شمار دنیا کی نایاب ترین میملزمیں کیا جاتا ہے جبکہ خطرے کے لحاظ سے چین کے دریائے ینگٹز میں پائی جانے والی ڈولفنز کے بعد اس کا دوسرا نمبر ہے۔

انڈس ریور ڈولفن دنیا میں پائی جانے والی دریائی ڈولفنز کی 4 اقسام میں سے ایک ہے جو اپنی پوری زندگی تازہ پانی میں گزارتی ہیں، یہ فطری طور پر اندھی ہونے کے باعث حرکت، رابطے اور جھینگوں، کیٹ فش اور کیکڑوں کے شکار کے لیے صوتی لہروں کے انعکاس کے ذریعے کسی شے کے مقام کا تعین کرتی ہیں۔

گڈو اور سکھر بیراج کا 200 کلومیٹرکا علاقہ بین القوامی طور پر تسیلم شدہ رامسر سائٹ ہے ۔ (سال 1971 میں رامسر ایران میں دستخط کیا جانے والا کنونشن جس کے تحت انڈس ڈیلٹا کے پرندوں ، مچھلیوں ، مین گرووز اور دیگرحیات کے تحفظ کیلئے دریائے سندھ کا پانی ضروری ہے)۔

سندھ کے کچے میں ڈاکو راج

انیس سو اسی اور نوے کی دہائی میں گڈو اور سکھر بیراج کے درمیان دریائے سندھ کے کچے کے علاقے میں ڈاکو راج میں بےحد اضافہ ہوا، اس دور میں کچے میں بہت سے ڈکیت گروہ تھے جن کا گھوٹکی، کاشمور، شکار پور اور سکھر اضلاع کے قریبی جزیروں پر قبضہ تھا۔یہ ڈاکو اغواء برائے تاوان اور ہائی وے پر ڈکیتیوں میں ملوث تھے، تاوان کی رقم لینے کے لیے یہ لوگوں کو پکے علاقوں سے اغواء کرنے کے بعد محفوظ پناہ گاہ کیلئے کچے کے وسیع اور پیچیدہ علاقے میں لے آتے تھے۔

یہ ڈکیت اتنے طاقتور تھے کہ اکثر پولیس بھی ان کیخلاف کارروائی کے لیے کچے کے علاقے میں جانے سے گریز کرتی تھی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آپریشن کے دوران بعض اوقات شدید فائرنگ کا تبدلہ ہوتا تھا جو کئی کئی روز تک چلتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ ڈکیت

دہشت کی علامت بن گئے تھے۔

ڈاکو راج سے قبل ماہی گیروں سمیت دریا کنارے بہت سی کمیونٹیز رہتی تھیں جو گڈو اورسکھربیراج کےدرمیان ذریعہ معاش میں مصروف تھیں۔ کچے میں ڈاکوؤں کی آمد سے ماہی گیرکمیونٹی کمزور اور غیر محفوظ ہوگئی تھی ، اسی لیے انہوں نےعلاقہ اور پیشہ چھوڑتے ہوئے پکے علاقوں کی جانب نقل مکانی کرلی۔

چیف کنزرویٹر سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور سروے انچارج جاوید مہر کے مطابق، کچے کے علاقوں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کے باعث ماہی گیر پکے علاقوں میں منتقل ہوئے۔

جاوید مہر نے بتایا کہ جھابر نامی ایک کمیونٹی اور اس ذات سے تعلق رکھنے والی مختلف برادریاں سندھ بلائنڈ ڈالفن کا شکار کرتے تھے، وہ ان کا گوشت کھانے کے علاوہ فروخت بھی کرتے تھے اور اس کی چربی کو مخلتف مقاصد کیلئے استعمال کرتے تھے۔ غیر قانونی شکار کرنے والوں کے یہاں سے جانے کے بعد یہ سلسلہ رک گیا ہے۔

یہاں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جھابر کمیونٹی کے لوگ موریو میر بحر کے آباء واجداد میں سے ہیں،۔ مچھیرا موریو ایک روایتی داستان کا مشہور کردار ہے، جس میں ایک طویل عرصہ قبل اس نے ایک خطرناک سمندری بلا کو ہلاک کیا تھا، روایت کے مطابق بہادر مچھیرا دریا کے اندر اتر کراپنے 6 بھائیوں کی لاشیں واپس لے کر آیا تھا جنہیں خطرناک وہیل ہڑپ کر گئی تھی۔

جاوید مہر کے مطابق حال ہی میں اسلام قبول کرنے سے قبل جھابر انتقاما ڈولفنز سمیت مختلف آبی جانوروں کو قتل کرتے تھے۔

اسلام میں ڈولفنز کا گوشت کھانا حرام ہے۔

غیر قانونی شکار کرنے والوں کی منتقلی خطرے کا شکار ان نابینا ڈولفنز کیلئے رحمت ثابت ہوئی، ان کی تقریبا معدوم ہونے والی نسل ایک بار پھر سے بڑھ رہی ہے۔

انچارج انڈس ڈولفن کنزرویشن سینٹر سکھر اختر حسین تالپور نے بتایا کہ ان ڈولفن کے جسم کا 70 فیصد حصہ چربی پرمشتمل ہے جو کشتیوں پر لگائے جانے والے تیل میں بھی استعمال ہوتی ہے۔

اخترتالپورکے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے علاقے کوکلیئر کرانے کیلئے مختلف ریاستی آپریشنز کے بعد مشکل سے ہی کوئی ڈاکو یہاں بچا ہوگا لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں ماہی گیراورغیر قانونی شکار کرنے والے اپنی پرانی جگہ پر واپس نہیں آئے ہیں اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ اب غیر قانونی شکار کی سرگرمیاں نہیں ہوتیں۔

دیگراقدامات

شکارکا رکنا ڈولفنز کی آبادی میں اضافے کی واحد وجہ نہیں بلکہ سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس حوالے سے قانون نافذ کیا ہے جبکہ بعض اوقات بیراج سے منسلک نہروں میں پھنس جانے والی ڈولفنز کو بچانے کے تحت عام افراد کیلئے بھی آگاہی پروگرام شروع کیا گیا۔

میراختر حسین تالپور کے مطابق سال 1992 سے ایس ڈبلیو ڈی نے ماہی گیروں کے ساتھ مل کر اب تک مختلف نہروں سے تقریبا 157 ڈولفنز کو ریسکیو کرنے کے بعد سمندر میں واپس دھکیلا ہے۔

لیکن جاوید مہر حالیہ دنوں میں بڑھتے ہوئے مچھلی کے غیر قانونی شکار کو ان ڈولفنز کیلئے ایک ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں مچھلیاں پکڑنے کیلئے ایک نیا نظام متعارف کرایا گیاجس کے تحت ماہی گیروں کو شکار کی اجازت دینے کیلئے 15روپے کے عوض ایک کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سے اتنے غریب تھے کہ جال خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے اسی لیے انہوں نے غیر قانونی طریوں کا استعمال شروع کردیا مثلا وہ مچھلیاں پکڑنے کیلئے دریا میں زہر پھینک دیتے تھے جو کہ مچھلیوں کے ساتھ ساتھ ڈولفنز کیلئے بھی خطرہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے علاقے کی سختی سے نگرانی کی جا رہی ہے، ایسے نقصان دہ طریقوں کو نظرانداز کرنے کیلئے ماہی گیر کمیونٹی کوتربیت بھی دی جاتی ہے۔

انڈس ڈولفنز دریائے سندھ کے مرکز کی پانچ ذیلی آبادیوں میں رہتی ہیں جو آبپاشی کے بیراجز کے ذریعے ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں۔

جاوید مہر کے مطابق دریائے سندھ پرآبپاشی کے نظام سے متعلق تعمیرات سے ان ڈولفنز کی تعداد کم ہوئی ، دریائے سندھ پر بیراجز کی تعمیرات سے یہ اٹک سے 1500 کلومیٹر کے علاقے میں انڈس ڈیلٹا کے مقام پر ملنے لگیں (دریائے سندھ اور دریائے کابل ایک مقام پر پہنچ کر آپس میں ملتے ہیں جبکہ یہ دریا سندھ میں بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے) ۔ سکھر بیراج سے کوٹری بیراج کی طرف بہاؤ میں جہاں پانی کم ہے، ڈولفنز کی کچھ تعداد پائی گئی جبکہ کوٹری بیراج کے بہاؤ میں کوئی ڈولفن نہیں مل سکی۔

ڈولفنز کیلئے بڑا خطرہ

انہوں نے بتایا کہ گڈو بیراج پر نیچے اوراوپر کی جانب بہاؤ میں پانی کی زیادہ سے زیادہ دستیابی ان ڈولفنر کی نشوونما کی بڑی وجہ ہے۔ لیکن ماہی گیروں کے مطابق اگر غیر قانونی شکار جاری رہتا تو یہ ڈولفنز کیلئے نقصان دہ ہوتا۔

چیئرمین سندھ ملاح فورم ڈاکٹر سائیں رکھیوں میرانی کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کی کمی ان مچھلیوں کی بقاء کیلئے خطرہ ہے ، لیکن جو غیرقانونی شکار جاتا تھا وہ اس سے بھی بڑا خطرہ تھا، شکار کے رکنے سے ہم ڈولفنز کی آبادی میں اضافہ دیکھ رہے ہیں اور اگر غیرقانونی شکار کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تو منظرتبدیل بھی ہوسکتا ہے۔.

سال 1972 سے 2019 تک کے اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ ان سالوں میں ڈولفنز کی آبادی میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، اپریل میں کیے جانے سروے سے قبل سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 19 سروے کیے جا چکے ہیں ۔ ( 1980 تک یہ محکمہ سندھ وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کہلاتا تھا)۔

ریکارڈ کے مطابق 1974 میں کیے جانے والے سروے میں150 ڈولفنز پائی گئیں۔ اسی طرح سال 1975 میں 182 ، سال 1979 میں 291، سال 1981 میں 346، سال 1986 میں 429، سال 1989 میں 368، سال 1990 میں 387، سال 1991 میں 398، سال 1992 میں 410، سال 1993 میں 426، سال 1994 میں 435، سال 1995 میں 447، سال 1996 میں 458، سال 1999 میں 499، سال 2001 میں 602 ، سال 2006 میں 808 اور سال 2011 میں کیے جانے والے سروے میں 918 ڈولفنر کی موجودگی کا علم ہوا۔

سال 1972 سے 2011 کے درمیان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہرسال اس تعداد میں 20 ڈالفنز کا اضافہ ہوا۔ تاہم اپریل 2019 میں کیے جانے والے حالیہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 2011 سے 2019 تک 501 ڈالفنز کا اضافہ ہوا، یعنی 8 سال کے درمیان ہر سال یہ تناسب 62 ڈالفنزرہا۔

جاوید مہر نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ریکارڈ اضافہ نہیں ہے لیکن اپریل میں ڈولفنز کی زیادہ تعداد دیکھی گئی کیونکہ اس موسم میں پانی کا بہاؤ کم ہوتا ہے۔ گزشتہ سروے جولائی اور اگست میں سیلاب کے موسم میں کیے گئے تھے، پانی کے تیز بہاؤ کے سبب ڈولفنز کو دیکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماہ اپریل میں دریا کے بہاؤ میں کمی کے باعث ڈولفنز کی نقل وحرکت ایک مخصوص ایریا تک محدود ہو جاتی ہے۔ اسی لیے ان کی تعداد میں اضافے کے بجائے یہ دیکھی زیادہ جاتی ہیں۔