وفاق کی وجہ سے روزگار، اسکول اور اسپتالوں میں کمی ہورہی ہے، بلاول

April 20, 2019

بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ ملکی حالات بہتر کرنے ہیں تو اُن وزیروں کو ہٹانا پڑے گا جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے، چیئرمین پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر حکومت پر وار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا سمجھتی ہے کہ پاکستان کے وزیر دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں۔ بلاول نے تمام خرابیوں کا ذمہ دار وفاق کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاق کی چوری کی وجہ سے سندھ میں اسکول کم کھل رہے ہیں جبکہ روزگار کے مواقع بھی کم ہوتے جارہے ہیں، نیا پاکستان سندھ میں بن رہا ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں بون میرو ٹرانسپلاٹ یونٹ کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نیا پاکستان سندھ میں بن رہا ہے، پہلی بار سرکاری سطح پر بون میرو ٹرانسپلاٹ یونٹ کھلا ہے، وفاقی حکومت سے 50 فیصد کم اخراجات پر اسپتال بنائیں گے۔

انہوں نے وفاق پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو اپنے حصے سے کم پیسہ مل رہا ہے، وفاق کی وجہ سے صوبے میں اسکول کم کھل رہے ہیں جبکہ روزگار کے مواقع بھی کم ہوتے جارہے ہیں، عوام محنت کرکے پیپلزپارٹی کو وفاق میں لائیں۔

بلاول کا کہنا تھا کہ وفاق اس سال ہمارے حق میں سے 50 فیصد کم رقم دے گا، وفاق کی چوری کی وجہ سے 50 فیصد کم اسکول اور اسپتال بنیں گے، وفاق کی چوری کی وجہ سے 50 فیصد کم روزگار دیں گے، ہم عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، رقم میں سے یہ کٹوتی برداشت نہیں کریں گے، اپنے حقائق وفاق سے چھین کر رہیں گے۔

چیئرمین پی پی پی کہتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئیں، اس کے مطابق نیا این ایف سی ایوارڈ آنا تھا، نہ نواز شریف دور میں آیا اور نہ اب آرہا ہے، اتنے کم پیسوں میں اتنا کام کررہے ہیں، ہماری حکومت فنٹاسٹک گورنمنٹ ہے۔

آئندہ بجٹ سے متعلق صحافی کے سوال پر بلاول بھٹو زرداری بولے کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ جمہوری سوچ رکھتی ہے اور نظام کو چلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، اپنی حکومت میں اور بطور اپوزیشن کردار کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

آئی ایم ایف کے پاس جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا حکومت کی کوئی ڈائریکشن نہیں ہے، ان کے فیصلوں کا معیشت پر برا اثر پڑ رہا ہے، آئی ایف کے پاس جانا تھا تو پہلے ہی یہ فیصلہ کیوں نہیں کیا، صلاحیت کی کمی اور نااہلی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مستقبل اور ہمارے بچوں کو بچانے کیلئے انتہاء پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ضروری ہے، نئے وزیروں پر الزامات ہوں گے تو سوالات اٹھیں گے، پی ٹی آئی کا نظریہ اور سوچ ہمارے ملک، قومی سلامتی، معیشت اور مستقبل کیلئے نقصان دہ ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ ملکی حالات بہتر کرنے ہیں تو اُن وزیروں کو ہٹانا پڑے گا جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے، چیئرمین پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر حکومت پر وار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا سمجھتی ہے کہ پاکستان کے وزیر دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں، اگر آپ نے دنیا کو یہ پیغام بھیجنا ہے تو بھیجیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے متعلق پیپلزپارٹی کا مؤقف واضح ہے، حکومت کو ان وزیروں کیخلاف ایکشن لینا چاہئے، ان وزیروں کے ساتھ میرا کوئی ذاتی جھگڑا نہیں۔