Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

خیبر پختونخوا کے عوام سفاری ٹرین کے سفر کیلئے تیار رہیں

SAMAA | - Posted: Apr 19, 2019 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Apr 19, 2019 | Last Updated: 3 years ago

خیبر پختونخوا حکومت بھاپ سے چلنے والی سفاری ٹرین کا پھر سے آغاز کرنے جا رہی ہے، آگے اور پیچھے 2 انجن والی یہ ٹرین دھواں چھوڑتی ہوئی پہاڑوں کے درمیان سے گزرتی تھی۔

بھاپ سے چلنے والی ٹرین کو ’’وقت اور تاریخ میں سفر‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ لیکن کئی دہائیوں تک مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کو سہولت فراہم کرنے والی سفاری ٹرین کو سیکیورٹی خدشات کے باعث مئی 2007 میں بند کر دیا گیا، جبکہ 2007 اور 2010 کے سیلابی ریلے میں ریلوے کا بنیادی ڈھانچہ بھی بہہ گیا۔ موجودہ صورتحال میں  بھاپ کے پرانے انجنوں کو چلانے کےلیے مناسب ٹریک موجود نہیں۔

صوبے میں سیاحت بحال کرنے کیلئے، خیبر پختونخوا حکومت خیبر سفاری ٹرین کے علاوہ مزید 2 سفاری ٹرینیں پشاور تا تخت بھائی اور پشاور تا اٹک خرد کے درمیان چلانا چاہتی ہے۔ گذشتہ حکومت نے مختصر وقت کےلیے پنجاب میں اٹک شہر سے تاریخی مقام اٹک خرد تک ٹرین چلائی تھی۔ ریلوے حکام کہتے ہیں کہ ٹرین کسی تاخیر کے بغیر دوبارہ چلائی جا سکتی ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست پر پاکستان ریلوے نے نوشہرہ سے تخت بھائی کےلیے آزمائشی سفر کا آغاز کیا تھا جس کے بعد صوبائی حکومت میں امید کی کرن جاگی۔ ریلوے کے ایک سینیئر افسر کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہاں پورا انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے لیکن تخت بھائی تک کےلیے سفاری ٹرین کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ نوشہرہ سے درگئی جانے والا ٹریک 1992 سے بند ہے لیکن ہم کم سے کم قیمت پر سفاری ٹرین چلانے کو تیار ہیں۔

پشاور میں پاکستان ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ محمد ناصر خلیلی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ پاکستان ریلوے ہرقسم کی تکنیکی اور انتظامی مدد کرنے کو تیار ہے، صوبائی حکومت ریزورٹس کی تعمیر، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے معاملات دیکھے گی، پاکستان ریلوے پائیدار سیاحت کو فروغ دینے کیلئے حکومت کو تمام مدد فراہم کرنے کےلئے تیار ہے۔ محمد ناصر خلیلی کے مطابق ملک میں سیاحت کی بحالی میں 3 سفاری ٹرینیں ایک اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

حکام کے مطابق ادارہ بغیر کسی تاخیر کے تخت بھائی اور اٹک خرد کےلیے ٹرین چلانے کو تیار ہے، جس طرح پچھلے ماہ نوشہرہ تا تخت بھائی ٹریک کلیئر کیا گیا تھا۔

 ناصر خیلی کا کہنا تھا کہ بھاپ سے چلنے والی خیبر سفاری ٹرین کی بحالی میں دشواری کا سامنا ہے کیونکہ ریلوے کا ٹریک 2007 اور 2010 میں سیلاب کی نظر ہوچکا ہے۔ اس تاریخی ٹریک سے متعلق  سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1901 میں اس ٹریک کو پشاور سے جمرود تک بڑھایا گیا تھا۔ سن 1925 میں لنڈی کوتل ٹریک کو لنڈی خانہ تک جبکہ 1926 میں افغانستان کی سرحد تک بڑھایا گیا لیکن یہ استعمال میں نہیں رہا۔

ناصر خلیلی نے بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 34 میں سے 26 سرنگیں بند ہو چکی ہیں اور تمام 94 پل بھی سیلاب کی نظر ہوچکے ہیں جن کی تعمیر نو کی ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹرین سسٹم سے ہم آہنگ بنانے کےلیے ٹریک کی مرمت یا تعمیر نو کرنی پڑے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بڑے کام کو مکمل کرنے کےلیے 15 ارب روہے کی رقم درکار ہوگی۔،  پاکستان ریلوے سروے مکمل کر چکا ہے اور رقم ملنے پر ہم بحالی کا کام شروع کر دیں گے، جسے مہینوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔

خیبر پختونخواہ کے سیاحت کارپوریشن سے تعلق رکھنے والے ظہور درانی کہتے ہیں کہ سفاری ٹرین کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کیا گیا تھا اور اب امن واپس آ چکا ہے، لیکن اس وقت اہم رکاوٹ مالی وسائل ہیں۔صوبائی حکومت، خصوصا وزیر سیاحت بہت کوششیں کر رہے ہیں لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہوا کہ بحالی کے کام کےلیے رقم کون دے گا۔

ظہور درانی نے بتایا کہ ٹریک کی بحالی کے کام کےلیے رقم وزارت ریلوے کو دینا ہوتی ہے جبکہ دیگر سہولیات صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت ریلوے سے کئی ملاقاتوں کے باوجود اب تک خیبر کے اضلاع میں تعمیراتی کام شروع کرنے سے متعلق فیصلہ نہیں لیا گیا، جبکہ یہ بھی نہیں معلوم کہ خیبر سفاری ٹرین کب چلائی جائے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube