چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر بننے کے اہل یا نہیں؟ عدالت نے فیصلہ سنا دیا

April 15, 2019

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو قائم قام صدر بننے کا اہل قرار دیتے ہوئے اہلیت سے متعلق دائر درخواست کو خارج کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی اہلیت سے متعلق درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ پیر کو سنایا۔ جسٹس عامر فاروق نے افضل شنواری کی درخواست پر چودہ فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

 

فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے صادق سنجرائی کو قائم مقام صدر بننے کیلئے اہل قرار دیا۔ درخواست گزار کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کی نااہلی کے خلاف 21 جون 2018 کو درخواست دائر کی گئی تھی۔

 

درخواست گزار کا کہنا تھا صادق سنجرانی آئین کے آرٹیکل کے تحت قائم مقام صدر بننے کے اہل نہیں، درخواست کے مطابق سال 2018 میں ان کی عمر تقریبا 40 سال ہے، جب کہ آئین میں صدر بننے کیلئے عمر 45 سال ہے، صادق سنجرانی اس معیار پر پورا نہیں اترتے، لہذا ان کی بطور قائم مقام صدر کی تقرری آرٹیکل کے خلاف ہے۔

 

درخواست میں وفاق اور چیئرمین سینیٹ کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست گزار نے چودہ مئی دو ہزار اٹھارہ کو صدر مملکت کی بیرون ملک روانگی پر صادق سنجرانی کو قائم مقام صدر مقرر کرنے پر اعتراض کیا تھا۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ صادق سنجرانی کو بطور قائم مقام صدر ذمہ داریاں سرانجام دینے سے روکا جائے۔