Wednesday, October 27, 2021  | 20 Rabiulawal, 1443

مہمند میں ویکسین پلانے سے انکاری والدین نے پولیو افسر کو قتل کردیا

SAMAA | - Posted: Apr 8, 2019 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Apr 8, 2019 | Last Updated: 3 years ago

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع مہمند میں تحصیل حلیمزئی میں پولیو افسر کو قتل کردیا گیا۔ وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے پولیو بابر عطا نے کہا ہے کہ واجد خان ایک نکاری خاندان کے بچوں کو انسداد پولیو قطرے پلانے کی کوشش کر رہے تھے جس پر انہوں نے اس پر فائرنگ کردی۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق اٹوخیل علاقے سے تعلق رکھنے والا مقتول واجد خان یونین کونسل پولیو افسرکے حیث سے کام کرتا تھا۔

ذرائع کے مطابق فائرنگ کے بعد واجد خان کو زخمی حالت میں غلنئی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

بابر عطا نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ایک خاندان نے مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا تھا اور واجد خان اس خاندان کو آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر انہوں نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے بجائے فائرنگ کرکے واجد خان کو قتل کردیا۔

انہوں نے کہا کہ لوگ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں یا نہ پلائیں مگر پولیو ورکرز پر حملے ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔

بابر عطا نے مقتول کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ واجد خان کے قتل کیس کی خود پیروی کرکے منطقی انجام تک پہنچاؤں گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پولیو ورکرز پر حملے ہوتے رہے ہیں جس میں مختلف دہشت گرد تنظیمیں ملوث رہیں مگر یہ اپنی نوعیت کا واحد کیس ہے جس میں ’انکاری والدین‘ نے انتہائی اقدام اٹھایا ہے۔

یاد رہے کہ 24 ستمبر 2018 کو قبائلی ضلع باجوڑ میں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے پولیو ٹیم کے ساتھ ڈیوٹی پر مامور سیکیورٹی اہلکار کو شہید کیا تھا۔ اس کے علاوہ 31 اکتوبر 2017 کو بھی باجوڑ میں انسداد پولیو ٹیموں کو سکیورٹی فراہم کرنے کےلئے جانے والے 3 لیویز اہلکار بم دھماکے میں زخمی ہوگئے تھے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube