Tuesday, October 20, 2020  | 2 Rabiulawal, 1442
ہوم   > Latest

پاک بھارت کشیدگی، جماعت اسلامی نے رضاکاروں کی بھرتی شروع کردی

SAMAA | - Posted: Mar 2, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 2, 2019 | Last Updated: 2 years ago

(Photo: AFP)

کراچی کا بے گھر 11 سالہ لڑکے عامر خان اپنے والدین کو جانتے ہیں اور نہ ہی انہیں یہ پتہ ہے کہ بچپن میں ان کے ساتھ کیا ہوا تھا، تاہم پاک بھارت کشیدگی کے بعد وہ بھارت کیخلاف جنگ میں حصہ لینے کا خواہشمند ہے۔

جماعت اسلامی نے پاک بھارت جنگ کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں رضا کاروں کی بھرتی کا آغاز کردیا، کراچی میں قائم ایک کیمپ کے باہر سماء سے گفتگو کرتے ہوئے گیارہ سالہ عامر خان کا کہنا ہے کہ ہم (مسلمان) بھارت کو جلا ڈالیں گے، انہیں مار دیں گے اور اڑادیں گے، مجھے یقین ہے کہ ہم انشاء اللہ یہ جنگ جیتیں گے۔

عامر خان ان ہزاروں خواتین، مردوں اور بچوں میں سے ایک ہے جنہوں نے کراچی میں جماعت اسلامی کے کیمپوں میں آکر خود کو جنگ کیلئے رضاکارانہ طور پر پیش کیا ہے۔

یہ رضا کار 14 فروری کے بعد تواتر سے ہونیوالے واقعات اور تناؤ کے بعد غم و غصے کا شکار ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر خودکش حملے میں 40 سے زائد بھارتی اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے، یہ 2002ء کے بعد سے کشمیر میں بھارتی فورسز پر کیا جانے والا سب سے خطرناک حملہ تھا۔

پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے مسلسل پاکستان پر الزامات اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی جارہی تھی، 26 فروری کی رات اور 27 فروری کی صبح کئی بھارتی جہازوں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، پاکستان نے 2 بھارتی طیارے مار گرائے ایک پاکستانی علاقے جب کہ دوسرا مقبوجہ کشمیر میں گرا، پاک فوج نے ایک بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو حراست میں لے لیا تھا۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے امن کو موقع دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے گزشتہ شب واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کردیا گیا تھا۔

جماعت اسلامی برسوں سے کشمیر کو اپنے سیاسی منشور میں بنیادی حیثیت دیتی آئی ہے۔ حسن اسکوائر پر قائم کیمپ میں موجود جماعت اسلامی کے عہدیدار کبیر احمد خود رضاکاروں کے ناموں اور ٹیلی فون نمبرز کا اندراج کررہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خواتین اور خود دینے والوں کی بھی ضرورت ہے، خواتین اپنے ناموں کا اندراج عمارتوں، پلوں اور فوجی تنصیبات کی حفاظت کیلئے کراچکی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ کی صورت میں لوگوں کو طبی اور امدادی کاموں کیلئے تیار کررہے ہیں، اپنے ناموں کا اندراج کرانے والوں کو بتایا جارہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو پارٹی امدادی ٹیموں کے ساتھ کام کرنے اور تربیت کی فراہمی کیلئے انہیں بلائے گی۔ کبیر نے مزید اضافہ کیا کہ بہتر ہوگا کہ بھارت مذاکرات کے ذریعے کشمیر سے چلا جائے اور اگر جنگ ہوئی تو ہم لڑنے کیلئے بھی تیار ہیں۔

جماعت اسلامی یوتھ ونگ کے صدر حافظ بلال نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شہر بھر میں رضا کاروں کی بھرتی کیلئے 22 مقامات پر کیمپ لگائے گئے ہیں، جن میں 10 ہزار کارکنان سمیت 30 ہزار افراد اپنے ناموں کا اندراج کراچکے ہیں، ہم لوگوں کے ناموں اور موبائل فون نمبرز لے رہے ہیں، جو جذبۂ جہاد اور جذبۂ شہادت کے تحت ملک کی حفاظت کیلئے پہلے ہی تیار ہیں۔

جماعت اسلامی ماضی میں بھی آزادیٔ کشمیر کی حمایت کرتے ہوئے کشمیری رہنماؤں حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین اور کماندر مست گل کے ہمراہ ریلیاں نکالتی رہی ہے۔

حساس ادارے سے تعلق رکھنے والے افسر نے سیاسی جماعتوں سے متعلق بات کرنے پر پابندی کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جماعت اسلامی کشمیری رہنماؤں کو اپنے دفاتر میں پناہ دیتی رہی ہے۔

سید صلاح الدین کچھ سال قبل جماعت اسلامی کراچی کے دفاتر میں کارکنان سے رابطے کرچکے ہیں، یہ دورے نوجوانوں کی سوچ کو اپنے انداز میں ڈھالنے میں معاون ہوتے تھے۔

بھارتی حکومت نے کشمیر میں جماعت اسلامی کو اندرونی حفاظت اور عوامی حکم کیخلاف اقدامات پر غیر قانونی تنظیم قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کردی ہے۔

بھارتی اقدام پر رد عمل دیتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینئر رہنماء حفظ نعیم الرحمان کہتے ہیں یہ پابندی اس لئے لگائی کیوںکہ بھارت جانتا ہے کہ کشمیر جہاد کو کون مزاحمت فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پلوامہ حملے کو دہشت گردی نہیں قرار دینا چاہئے بلکہ کہنا چاہئے کہ کشمیری نوجوان کا یہ اقدام ریاستی دہشت گردی کیخلاف جہاد تھا، حافظ نعیم الرحمان نے جہاد کو مذہبی فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پلوامہ حملے میں کوئی بھارتی شہری ہلاک نہیں ہوا بلکہ حملے کا نشانہ سیکیورٹی فورسز تھی۔

سیاسی تجزیہ کار توصیف احمد کہتے ہیں کہ یہ پہلی بار نہیں کہ جماعت اسلامی ریلیوں کا انعقاد اور رضا کاروں کی بھرتی کررہی ہے، پارٹی نے 1971ء میں بھی سقوط ڈھاکہ سے قبل شہر میں پوسٹرز اور بینرز آویزاں کئے تھے، جماعت اسلامی کی مہم کے نتیجے میں لوگوں میں ایک جنون پیدا ہوگیا تھا جس کا نتیجہ ہم سب نے دیکھا۔

وہ جنگ 71ء کے موقع پر کالج میں تھے، اس وقت بھی جماعت اسلامی کے کارکنان ’’بھارت کو تباہ‘‘ کردینے کے نعرے لگاتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ گروپوں نے پاکستان کو تنہائی کا شکار کردیا ہے، جب وہ جہاد کی بات کرتے ہیں تو اسے ثبوت کے طور پر لیا جاتا ہے کہ پاکستان کشمیر میں مداخلت کررہا ہے۔

سابق آئی ایس آئی افسر بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی رہنماؤں کی کشمیر جہاد میں شامل رہنماؤں کی حمایت کی حمایت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کے کمانڈر مست گل سے کافی قریبی تعلقات تھے، وہ اکثر عوامی ریلیوں میں انہیں ساتھ رکھتے تھے۔

سیاسی و عسکری ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو لوگوں بالخصوص نوجوانوں کو تشدد پر اکسانے والے گروپوں کیخلاف ضرور کارروائی کرنی چاہئے۔

اسد منیر کا مزید کہنا تھا کہ دنیا اب مزید جہاد کو برداشت نہیں کرتی، اس لئے ریاست کو ایسے گروپوں کیخلاف کارروائی کرنی ہوگی جو لوگوں کو جہاد پر اکساتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں جنہوں نے بھی یہ پالیسی بنائی وہ اس سب کے ذمہ دار ہیں۔

سماء ڈیجیٹل نے موجودہ صورتحال پر تجزیہ اور ردعمل کیلئے حکومتی عہدیداروں سے کئی بار رابطہ کیا۔ فواد چوہدری کو موبائل میسجز کیا گیا تاہم خبر شائع ہونے تک انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ان سے رابطہ ہونے پر تفصیلات خبر میں شائع کردی جائیں گی۔

اسی دوران 14 سالہ ابو ہریرہ نے بھی اپنی والدہ کے ہمراہ جماعت اسلامی کے کیمپ میں اندراج کرایا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کیلئے اپنے بیٹے کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گی، ہماری جانیں پاکستان کیلئے ہیں۔

ابو ہریرہ نے اس موقع پر کہا کہ ہم پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بحالی چاہتے ہیں کیونکہ جنگ کی صورت میں دونوں ممالک کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube