Monday, October 25, 2021  | 18 Rabiulawal, 1443

پاکستان اور بھارت کسی بھی غلط فہمی کا شکار ہوکر جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے،عمران خان

SAMAA | - Posted: Feb 27, 2019 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 27, 2019 | Last Updated: 3 years ago

  وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کل والے واقعے کے بعد فوری ایکشن اس لئے نہیں لیا کیوں کہ پاکستان کے نقصان کا علم نہیں تھا،اگر بھارت یہاں آکر کارروائی کرسکتا ہے تو پاکستان بھی وہاں جاکر کارروائی کرسکتا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے حل کرنا ہونگے۔...

 

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کل والے واقعے کے بعد فوری ایکشن اس لئے نہیں لیا کیوں کہ پاکستان کے نقصان کا علم نہیں تھا،اگر بھارت یہاں آکر کارروائی کرسکتا ہے تو پاکستان بھی وہاں جاکر کارروائی کرسکتا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے حل کرنا ہونگے۔

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتےہوئے کہا ہے کہ کل والے واقعے کے بعد پاکستانی قوم کو اعتماد میں لینا ضروری تھا۔ پلوامہ واقعے کے بعد ہندوستان کو تحقیقات کی پیش کش کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو کہا تھا کہ اگر پلوامہ واقعے میں کوئی پاکستانی ملوث ہے تو تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان نہیں چاہتا تھا کہ اس کی زمین کسی دہشت گرد کارروائی کے لیے استعمال ہو تاہم خدشات تھے کہ بھارت کارروائی کرے گا۔ کل صبح جو بھارت نے ایکشن لیا،اس پر اس لئے کارروائی نہیں کی کیوں کہ پوری طرح پاکستان کے نقصان سے آگاہ نہیں ہوئے تھے۔ بھارت نے جج اور جیوری بن کر خود ایکشن لیا۔

پاکستان نے بھارت کے 2 جنگی طیارے مار گرائے،پاک فوج کی تصدیق

عمران خان نے واضح کیا کہ پاکستان صرف یہ بتایا چاہتا تھا کہ ہندوستان میں جا کر کارروائی کرسکتے ہیں۔آج صبح پاک فضائیہ نے دو بھارتی مگ طیاروں کو مار گرایا اور پائلٹ حراست میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے لیے بہت ضروری ہے کہ یہاں عقل اور حکمت استعمال کرے۔ جتنی بھی دنیا میں جنگیں ہوئی ہیں اس میں غلطیاں ہوئیں۔اگر جنگ یہاں سے شروع ہوتی ہے تو کوئی نہیں جانتا ہے کہ یہ کہاں تک جاتی ہے کیوں کہ یہ کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوگی۔

پاکستان کی طرف سے امن کا پیغام ہے،جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے،پاک فوج

انھوں نے کہا کہ پھر سے دعوت دیتا ہوں کہ  پاکستان مذاکرات کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ وزیراعظم نے مزید واضح کیا کہ بھارت کو کہا ہے کہ پلوامہ کے معاملے اور دہشت گردی پر مذاکرات چاہتے ہیں تو پاکستان تیار ہے لیکن پھر سے کہوں گا کہ سمجھ کی ضرورت ہے، بیٹھ کر بات چیت سے مسئلے حل کرنا ہونگے۔

اس سے قبل دفتر خارجہ نے تصدیق کی کہ پاکستان نے دن کی روشنی میں واضح وارننگ دے کر کارروائی کی ہے۔ ترجمان ڈاکٹر فیصل کے مطابق پاک فضائیہ نے اپنی ہی حدود سے ایل او سی کے پار کارروائی کی۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ بھارتی جارحیت کا جواب نہیں بلکہ دراندازی کرنے والوں کیلئے مادر وطن کے دفاع کی صلاحیت کا اظہار ہے۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں امن چاہتا ہے لیکن بھارت کو دفاعی صلاحیت میں یہ بتا دیا ہے کہ پاکستان کیا کچھ کرسکتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ بھارت بغیر کسی ثبوت کے نام نہاد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی بات کرتا ہے تو پھر پاکستان کو بھی بھارتی سرپرستی میں دہشتگرد عناصر کیخلاف کارروائی کا حق حاصل ہے۔ دفتر خارجہ نے پاکستانی ایف 16 طیارہ گرانے کا بھارتی دعویٰ بے بنیاد قرار دے دیا۔

پاکستان کا کوئی طیارہ بھارت نے نہیں مار گرایا،پاک فوج کی تصدیق

اس کے علاوہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتا،پاکستان کی طرف سے امن کا پیغام ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان کے ایف 16 طیارہ گرانے کا بھارتی دعویٰ بھی مسترد کردیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بھارت کو جواب دینے سے متعلق آپشنز پرغور کیا گیا۔ پاک افواج کے پاس ہر طرح کی صلاحیت سمیت عوام کا ساتھ بھی ہے، پاکستان امن چاہتا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر 6 ہدف لاک کئے گئے۔ آج صبح جب وہ ٹارگٹ لینے تھے تو یہ فیصلہ کیا کہ کوئی عسکری ہدف نہیں لیں گے، انسانی زندگی کا نقصان نہ ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔اس دوران پاکستانی حدود میں رہتے ہوئے 6 اہداف کا کھلی جگہ میں نشانہ بنایا۔

پاک فضائیہ کی کارروائی،بھارتی طیارے گرنے کے مناظر

انھوں نے مزید کہا کہ کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جو غیر ذمہ دار ثابت کرے، پاکستان سب کچھ کرسکتا ہے مگر خطے کے امن کو متاثر نہیں کرنا چاہتے، پاکستان جنگ کی جانب نہیں جانا چاہتا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube