بلوچستان میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے انتظامیہ سے رابطے میں ہوں،جام کمال

February 21, 2019

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے حالیہ بارشوں سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال جاننے کے لیے پی ڈی ایم اے کا دورہ کیا جہاں انھیں سیلابی صورتحال سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ کے بعد وزیراعلی بلوچستان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ بارشوں سے بلوچستان میں خشک سالی کا خاتمہ ہوا ہے جب کہ کچھ علاقوں میں سیلابی صورتحال کا سامنا ہے، بارشوں سے تربت کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جب کہ دیگر متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ بھی مجھ سے مکمل رابطے میں ہے۔

وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع میں ریلیف کا سامان بیجھا گیا ہے، ریلیف کاموں میں پاک فوج کا تعاون بھی حاصل کیا گیا ہے، پی ڈی ایم اے نے پہلے ہی ریلیف کے کاموں کیلئے تیاری کررکھی تھی، جام کمال کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت، پاک فوج کے 4 ہیلی کاپٹر بھی ریلیف کے کاموں کیلئے سٹینڈ بائی پر ہیں، بارشوں سے میرانی ڈیم، بیلہ ڈیم اور دیگر ڈیموں میں پانی بھر گیا ہے، فائبر آپٹکس میں خلل سے آواران میں مواصلاتی منقطع ہے جب کہ بارشوں کا پانی کھڑا ہونے سے شہری آبادیاں متاثر ہوئی ہیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے بتایا کہ سیلاب سے لسبیلہ میں 2 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، افسوس ہے ماضی میں ڈیم بنانے کیلئے اقدامات نہ کئے گئے،حالیہ پلوامہ حملے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ کشمیر کیلئے آواز اٹھائیں گے، پلوامہ حملے میں بھارت اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے اپنا رہاہے، پاکستان کے دیگر ممالک سے تعلقات کی وسعت سے بھی بھارت خائف ہے، انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے ہمارا موقف دو ٹوک ہے، ہم نے قانون سازی کی کہ کوئی غیر مقامی بلوچستان میں زمین کا مالک نہیں بن سکتا، کسی بھی ایم او یو میں بلوچستان کا نام ہوگا تو دستخط بلوچستان حکومت ہی کرے گی۔