ہوم   >  پاکستان

بلوچستان میں موسلا دھار بارشوں کے بعد سیلاب نے تباہی مچا دی

6 months ago

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں موسلا دھار بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی،متعدد افراد سیلابی ریلے میں بہہ کر لاپتہ ہو گئے ہیں۔ بلوچستان بھر سے نمائندگان سما کے مطابق موسلا دھار بارشوں اور اس کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی سے متعدد علاقے زیر آب...




بلوچستان کے مختلف اضلاع میں موسلا دھار بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی،متعدد افراد سیلابی ریلے میں بہہ کر لاپتہ ہو گئے ہیں۔


بلوچستان بھر سے نمائندگان سما کے مطابق موسلا دھار بارشوں اور اس کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی سے متعدد علاقے زیر آب آگئے جب کہ بعض علاقوں میں سیلابی پانی گھروں تک میں داخل ہوگیا جس کی وجہ سے لوگوں نے فوری نقل مکانی کر کے اپنی جان بچائی ہے،جب کہ موصول اطلاعات کے مطابق متعدد افراد سیلابی ریلے میں بہہ کر لاپتہ  بھی ہو چکے ہیں۔


بارشوں کے بعد سب سے زیادہ نقصان ضلع لسبیلہ سے سامنے آیا ہے جہاں ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر احمد مینگل کے مطابق20سےزائدافرادلاپتہ ہیں جب کہ بیس سےزائد دیہات کازمینی رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے 500افراد پھنس گئے ہیں ،لسبیلہ میں سیلابی صورتحال کےباعث ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جب کہ پاکستان نیوی اورایدھی کی ریسکیوٹیمیں علاقےمیں پہنچ گئیں ہیں۔


تربت میں برساتی نالے پر قائم پل گرنےکی وجہ سے گوادر اور تربت کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے جب کہ مکران کوسٹل ہائی وے پر اورماڑہ کے قریب بسول ندی پل کو نقصان پہنچنے سے گوادر سے کراچی آمدورفت معطل ہوگئی ہے اسی طرح کوئٹہ سے کراچی جانے والی شاہراہ گھنٹوں بند ہونے کے بعد ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے


دوسری جانب  بلوچستان میں بارشوں کی تباہی کے بعد  پی ڈی ایم اے نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں،جب کہ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال نے  اپنا تین روزہ دورہ  لسبیلہ ملتوی کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو بلوچستان بھر میں  ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں، ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق پاک فوج کے چار ہیلی کاپٹر بھی آج صبح سے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں اسی طرح لسبیلہ میں بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کے ریسکیو کے لیے پاک نیوی اور ایدھی بحری خدمات کی ٹیمیں بھی روانہ ہو گئیں ہیں۔


دوسری طرف بلوچستان کے ضلع چمن میں کوژک ٹاپ شاہراہ پرشدید برفباری سے چمن کوئٹہ شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہوگئی ہے جس کی وجہ سے چمن کا ملک بھر سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہے،.ڈپٹی کمشنر چمن شفقت انور شاہوانی کے مطابق کوژک ٹاپ شاہراہ سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے جس کے بعد کوژک ٹاپ شاہراہ پر جلد ٹریفک بحال کردی جائیگی ان کا مزید کہنا تھا کہ شدید بارشوں اور برفباری کے پیش نظر ضلع بھر میں الرٹ پہلے ہی جاری کیا جاچکا ہے۔


 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں