وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت اجلاس میں فش ہاربر سے متعلق اہم فیصلے

February 18, 2019

تصویر: پاکستان فشنگ

بلوچستان حکومت نے ساحلی علاقوں میں مزید 8 فش ہاربرز کے قیام اور پسنی فش ہاربر کی نئی جگہ تعمیر پر غور شروع کر دیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پسنی فش ہاربر 10 سال  سے غیر فعال ہے جبکہ تنخواہوں کی مد میں تقریبا ڈیڑھ ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ بیمار اداروں کو یا تو پیروں پر کھڑا کیا جائے گا یا بند کرنے پر غور کیا جائے گا۔

پسنی فش ہاربر کے امور کا جائزہ لینے کےلیے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی زیرِ صدارت اجلاس میں فش ہاربر کی ترقی کےلیے جاپان کی جانب سے دی جانے والی گرانٹ کے استعمال، ڈریجنگ کے عمل سمیت دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعلیٰ جام کمال کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں فش ہاربر اور جیٹیاں نہ صرف روزگار فراہم کرتی ہیں بلکہ وسائل بھی پیدا کرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے بلوچستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے اور یہ ادارے معیشت اور روزگار میں فعال کردار ادا نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ محکموں اور اداروں میں منصوبہ بندی اور سنجیدگی کا فقدان ہے، جو ادارے خود سے اپنے وسائل پر انحصار کرسکتے ہیں انہیں چلانے کے لیے بھی حکومت کو گرانٹ دینا پڑتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبے کے ساحلی علاقوں میں قائم فش ہاربر اور جیٹیوں کو ایک اتھارٹی کے تحت کرنے اور پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ موڈ پر لے جانے کا جائزہ لیا جائے اور ابتدائی طور پر اخبارات کے ذریعے اظہار دلچسپی کا اشتہار شائع کرکے سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور ردعمل کا جائزہ لیا جائے۔

اجلاس میں اس امر سے اتفاق کیا گیا کہ کیونکہ فش ہاربر بہت بڑی مقدار میں ریت آنے کی وجہ سے بند ہوگیا ہے اور ڈریجنگ کے باوجود اسے فعال نہیں کیا جاسکا۔ اس لیے فش ہاربر کی نئے مقام پر ازسرنو تعمیر کا جائزہ لیا جائے تاکہ مقامی ماہی گیروں کے روزگار کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں ساحلی علاقے میں 8 نئی جیٹیوں کے قیام کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا اور بورڈ آف ریونیو کو اس منصوبے کیلئے اراضی کی فراہمی کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبے کی ساحلی پٹی پر کیچ فارمنگ کو متعارف کرانے کے لئے نجی شعبے کو ترغیب دینے کے حوالے سے اظہار دلچسپی کا نوٹس مشتہر کیا جائے۔ مچھلی کی اسٹوریج اور مارکیٹ تک سپلائی کے مراحل کیلئے بھی جدید منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی، میر عارف محمد حسنی، رکن صوبائی اسمبلی عبدالرشید بلوچ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات سجاد احمد ایڈووکیٹ اور جنرل ارباب طاہر خان نے شرکت کی۔ سیکرٹری ماہی گیری ارشد بگٹی اور ایم ڈی پسنی فش ہاربرعلی گل کرد نے شرکاء کو بریفنگ دی۔