پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس، شوکت یوسفزئی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

February 12, 2019

انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس میں وزیر اطلاعات خیبر پختونخواہ شوکت یوسفزئی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر تے ہوئے گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کوثر عباس زیدی نے کی۔

پارلیمنٹ حملہ کیس؛ پی ٹی آئی رہنماؤں کی پیشی، ضمانت منظور

عدالت نے مسلسل عدم حاضری پر شوکت یوسفزئی کے علاوہ پی ٹی آئی کے 26 کارکنوں کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

اے ٹی سی نے کیس کی سماعت 28 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا۔

سماعت کے دوران صدر پاکستان عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کی بریت کی درخواستوں پر بحث نہ ہو سکی جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود اور جہانگیر ترین کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں منظور کر لی گئیںْ

پی ٹی وی حملہ کیس، عارف علوی نے بریت کی درخواست دائر کردی

پس منظر

 تحریک انصاف نے 2014 میں  اسلام آباد کے ڈی چوک پر نواز حکومت کے خلاف 126 روزہ دھرنا دیا تھا۔ دھرنے کے دوران تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے کارکنان نے پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ کیا اور پی ٹی وی پر حملہ کیا۔

اس دوران شاہراہِ دستور پر تعینات پولیس اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپ ہوئی اور پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے 50 مظاہرین نے ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو کو حملہ کر کے زخمی کیا تھا۔

اسلام آباد پولیس نے ان تمام واقعات کے مقدمات عمران خان، طاہر القادری، عارف علوی، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور راجہ خرم نواز گنڈاپور کے خلاف درج کیے جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔

انسداد دہشت گردی عدالت: پی ٹی آئی رہنماؤں کیلئے خوشخبری

نومبر 2014 میں عدالت نے پولیس افسر پر حملے میں طاہرالقادری اور عمران خان کو طلب کیا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے دونوں کو اشتہاری قرار دے دیا۔

گزشتہ برس جولائی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزمان کو مفرور قرار دیا اور ان کی منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد ضبط کرنے کے عمل کا آغاز کیا گیا۔ بعد ازاں تحریک انصاف کے رہنماؤں نے 3 سال بعد جنوری 2018 میں ضمانت حاصل کی تھی اور مئی میں عمران خان کو ایس ایس پی حملہ کیس میں بری کر دیا گیا تھا۔