عاصمہ جہانگیر کی پہلی برسی منائی جارہی ہے

February 11, 2019

پاکستان میں ہیومن رائٹس کمیشن کی سربراہ اور ملک میں انسانی حقوق کیلئے بلند ترین آواز عاصمہ جہانگیر کی آج پہلی برسی ہے ۔

تیس سالوں تک ظلم ، نا انصافی اور انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے صدائے حق بلند کرنے والی عاصمہ جہانگیر گیارہ فروری کو دل کے دورہ کے سبب 66 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں ۔

عاصمہ جیلانی جہانگیر ایک عظیم نام اور ایک عہد ہیں، جنہوں نے جبری مشقت کے خلاف اور انسانی حقوق کی بحالی کے لیے ہر حکمران کے سامنے آواز بلند کی ۔

متعلقہ خبر: عاصمہ جہانگیر : مظلوموں، بے سہاروں اور بے زبانوں کی آواز

عاصمہ انسانی حقوق کی ایسی علمبردار تھیں جنہوں ںے سچ بات بنا کسی خوف کے کہی ۔ آمروں کے ہردور میں ان کا جہاد جاری رہا، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے دور صدارت میں عاصمہ جہانگیر جمہوری اقدار کا دفاع کرتی رہیں ۔

انیس سو ستاسی میں عاصمہ جہانگیر نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی بنیاد رکھی ۔ پاکستان بار کونسل کی پہلی خاتون صدر منتخب ہو کر بھی انہوں نے تاریخ رقم کی ۔

عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کی سرگرم کارکن تھیں انہوں نے عدلیہ بحالی تحریک میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ عاصمہ جہانگیر کی بہن حنا جیلانی بھی سماجی خدمات کے حوالے سے شہرت رکھتی ہیں۔

متعلقہ خبر: عاصمہ جہانگیر بھی اپنے حصے کا کردارنبھاگئیں

عاصمہ جہانگیر حدود آرڈیننس جیسے اہم موضوع پر ریسرچ سمیت کئی کتابوں کی مصنفہ تھیں اور سپریم کورٹ بار کی سابق صدر بھی رہ چکی ہیں۔

عاصمہ پاکستان کے اداروں خصوصاً فوج پر تنقید کے لیے شہرت رکھتی تھیں۔ انہوں نے ڈکٹیٹر شپ کے دور میں آنکھیں کھولیں۔ ان کے والد ملک غلام جیلانی نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جو وہ جیت بھی گئے تھے۔ کہا جا سکتا ہے کہ ڈکٹیٹروں کی مخالفت کرنا انہیں ورثے میں ملا تھا۔

عاصمہ جہانگیر کے کریڈٹ پر ایک بڑا کام چھوٹی عمر میں اپنے والد کو جنرل یحییٰ کے دور میں جیل سے رہا کرانا تھا۔ تمام وکلاء نے زیر دباؤ آ کر کیس لڑنے سے انکار کیا تو 21 برس کی عاصمہ جو اس وقت خود طالبہ تھیں، عدالت سے کہا کہ وہ اپنے والد کا کیس خود لڑیں گی اور پهر ان کے حصے میں جیت آئی۔ انہوں نے قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رہائش پزیر عاصمہ جہانگیر نے کنیئرڈ کالج سے بی اے کی ڈگری لینے کے بعد جامعہ پنجاب سے وکالت کی تعلیم حاصل کی تھی۔

متعلقہ خبر: معاشرے کیلئے عاصمہ جہانگیر کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، چیف جسٹس

عاصمہ جہانگیر کی وجہ شہرت میں ان کے کچھ کیسز کا بھی بہت زیادہ عمل دخل ہے۔ سال 1983 میں صفیہ بی بی نامی ایک خاتون سے زیادتی کے کیس میں گواہ نہ ہونے پرزیادتی کو رضامندی قراردیا گیا لیکن عاصمہ نے یہ کیس کامیابی سے لڑ کر خاتون کو آزاد کروایا۔

اس کے علاوہ سال 1993 میں سلامت مسیح نام کے ایک نابالغ لڑکے کو توہین مذہب پر سزائے موت سنائی گئی، ایسے حساس کیس کو بھی عاصمہ جہانگیر نے جانفشانی سے لڑا۔ مذہبی انتہا پسندی کی شدید مخالف عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ماورائے عدالت قتل اگر طالبان کا بھی ہوا تو آواز اٹھاؤں گی۔