Thursday, July 9, 2020  | 17 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > Latest

کیا میرانشاہ میں شاپنگ سینٹر کھولنے سے حالات معمول پر آگئے ہیں

SAMAA | - Posted: Jan 29, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Jan 29, 2019 | Last Updated: 1 year ago

میرانشاہ کی مارکیٹ کمپلیکس حال ہی میں مکمل ہوگئی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں دکانداروں نے ابھی تک کرسیوں سے پلاسٹک نہیں ہٹایا۔

مارکیٹ کمپلیکس کی سفید اور سرمئی رنگ کی بلڈنگ درست سمت میں درست زاویے پر کھڑی ہے۔ ہر قسم عیب سے پاک اس عمارت کے اطراف میں ’دانے دار‘ راستے بنانے کی ایک سعی لاحاصل کی گئی ہے جو کہ وزیرستان کے دیگر بازاروں میں کہیں بھی دیکھنے میں نہیں آتا۔

نئی تعمیر شدہ اس مارکیٹ میں زیادہ تر دکانیں بند ہیں مگر کہیں کہیں چند دکانوں میں کاروبار جاری ہے۔ یہاں کھیلوں کا میدان، مسجد اور پارکنگ بھی ہے۔ لوگوں کے بیٹھنے کے لیے بنچ رکھے گئے ہیں جبکہ پودے بھی لگائے گئے ہیں۔ خریداروں کی تعداد کم اور کاروبار شروع کرنے کی لاگت زیادہ ہے۔

مارکیٹ کے 22 سالہ دکاندار شاکراللہ کا کہنا ہے کہ دکان کا ماہانہ کرایہ 10 ہزار روپے ہے جو انتہائی زیادہ ہے مگر دوسری جانب یہاں خریدار بھی کم ہیں۔

 

شاکراللہ فینسی سوٹ کا کاروبار کرتے ہیں اور انہوں نے اپنے کاروبار کی تیسری شاخ اس کمپلیکس میں کھولی ہے۔ دکان کی پچھلی دیوار کے ساتھ سمیع اللہ کے سر کے اوپر سرخ رنگ کا شادی کا جوڑا لٹکا ہوا ہے۔ یہ سوٹ سیکڑوں میل دور لاہور سے لائے جاتے ہیں کیوں کہ پشاور میں پولیس تاجروں کو ہراساں کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وزیرستان تک پہنچتے پہنچتے سوٹ کافی مہنگا ہوجاتا ہے۔

شاکراللہ نے کہا کہ ہم دکان کا کرایہ کم کرنے کی درخواست کریں گے۔ اس کے ساتھ دکان کا ایڈوانس بھی 5 لاکھ روپے لیا جاتا ہے۔ لوگوں کے پاس اتنی اضافی رقم نہیں کہ وہ بھاری ایڈوانس ادا کرسکے۔ اس لیے مارکیٹ کی زیادہ تر دکانیں ابھی تک خالی ہیں۔

اس سے قبل شاکراللہ بنوں میں کاروبار کرتے تھے۔ وہ بڑی امیدیں لے کر اپنے آبائی علاقہ میرانشاہ منتقل ہوئے۔ ان کو امید ہے کہ عید تک ان کا کاروبار مضبوط ہوجائے گا۔

شاکر اللہ کی طرح دیگر نوجوان بھی ملی جلے جذبات کے ساتھ وزیرستان لوٹے ہیں۔ مارکیٹ کمپلیکس کی دوسری قطار میں 28 سالہ دکاندار رضوان اللہ بیک وقت امید اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

رضوان اللہ کا کہنا ہے کہ یہاں خریدار نہ ہونے کے برابر ہیں، اس لیے میں سنیٹری اشیاء فروخت کرتا ہوں تاکہ سامان پڑا رہ کر خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔

نئی تعمیر شدہ مارکیٹ کمپلیکس میرانشاہ کے مرکزی بازار کے قریب واقع ہے۔ جہاں چند ہفتے قبل دکانداروں نے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان دکانداروں کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران میرانشاہ بازار میں 10 ہزار دکانیں گرائی گئیں اور ان میں سے صرف 1200 دکانیں دوبارہ تعمیر کی گئی ہیں۔ احتجاج کرنے والے دکانداروں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ نئی سڑکوں اور پارکوں کی زد میں آنے والی دکانوں کا معاوضہ ادا کیا جائے کیوں کہ آپریشن کے بعد سڑکوں اور پارکوں کی تعمیر کیلئے سیکڑوں دکانیں گرائی گئی ہیں۔

لگتا ہے جنگ کی طرح امن کی بھی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔

اتوار کو آئی ایس پی آر نے مقامی اور غیر ملکی صحافیوں کے ایک وفد کو میرانشاہ اور پاک افغان سرحدی علاقوں کا دورہ کرایا۔ دورے کے آغاز پر پشاور میں صحافیوں کو بریفنگ بھی دی گئی جس میں کورکمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل شاہین مظہر محمود نے بتایا کہ وزیرستان میں بڑے آپریشن ختم ہوگئے ہیں، اب تمام تر توجہ آپریشن کے نتائج کو مستحکم بنانے پر ہے۔ ایک سال کی مدت میں وزیرستان کے حالات مکمل معمول پر آجائیں گے۔

فی الحال وزیرستان میں کھیلوں کی سہولیات، دوبارہ چمکائے گئے اسکولوں، فنی تربیتی سینٹر اور کشادہ سڑکوں کو حالات معمول پر آنے سے تعبیر کیا جارہا ہے۔
مثال کے طور پر میرانشاہ کا مارکیٹ کمپلیکس 45 انجینئر ڈویژن کا پروجیکٹ ہے جس کے باعث کم از کم میرانشاہ میں دہشت گردی کے خونی کھنڈرات اب ہموار ہوگئے ہیں۔
وزیرستان میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ مارکیٹوں میں موبائل فون کی خرید و فروخت ہورہی ہے مگر علاقے میں تاحال موبائل سروس دستیاب نہیں۔ آرمی کے حکام کا کہنا ہے کہ سمالی وزیرستان میں مارچ تک موبائل سروس فراہم ہوجائے گی۔ موبائل سروس شمالی وزیرستان کے لوگوں کا دیرینہ مطالبہ تھا اور یہ ان کے لیے خوش آئند ہوگا۔


علاقے میں بحالی کا کام اگرچہ جاری ہے مگر یہ بذات خود ایک بڑا چیلنج ہے۔ آرمی کے ایک افسر نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کا سب سے بڑا مسئلہ ’برین ڈرین‘ کا ہے کیوں کہ تعلیم یافتہ افراد علاقہ چھوڑ کر دوسرے شہروں یا ممالک میں چلے جاتے ہیں۔ دوسری جانب وزیرستان کے مردوں میں شرح خواندگی 27 فیصد ہے جبکہ خواتین میں خواندگی کی شرح محض ایک اعشاریہ 5 فیصد ہے۔ اب یہاں توجہ عسکریت پسندی سے ہٹا کر معاشی و سماجی بہتری اور سلگتی ہوئی سیاسی بے اطمیانی پر مرکوز کی جارہی ہے جو پشتون تحفظ موومنٹ کی صورت میں ابھر کر سامنے آئی ہے۔
نوجوان لڑکے متنازع ’پشتین‘ ٹوپی پہن کر بازاروں میں گھوم رہے ہیں جو منظور پشتین کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ ایک نوجوان سر پر پشتین ٹوپی پہنے موٹر سائیکل کے ہینڈل پر تحریک انصاف کا جھنڈا لہراتے نظر بازار میں گھومتا نظر آیا۔ میں نے پشتین ٹوپی پہنے والے ایک گروپ کی تصویر بنائی لیکن سیلفی لینے سے ان سب نے انکار کردیا۔
ایک آرمی افسر کا کہنا ہے کہ ان نوجوانوں نے جنگ اور عسکریت پسندی کے سوا کچھ نہیں دیکھا جبکہ پشتون تحفظ موومنٹ خطے میں جاری 40 سالہ جنگ کے باعث وجود میں آئی اور ان کے مطالبات رفتہ رفتہ تسلیم کیے گئے ہیں۔
فوجی افسر کے مطابق ہمیں ہدایات ملی ہیں کہ لاپتہ افراد کا معاملہ دیکھنے کے لیے سول اور ملٹری پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے۔ چیک پوسٹوں کی تعداد میں کمی کردی گئی ہے۔ بارودی سرنگ ختم کرنے پر کام جاری ہے۔ تباہ شدہ گھروں اور دکانوں کا معاوضہ دیا جارہا ہے۔ اب پروپیگنڈا ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ آپریشن ختم ہوگیا ہے۔ تعلیم اور صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں وقت لگتا ہے۔ 20 سال کی محنت کا ثمر یکدم نہیں مل جاتا۔ اس کے لیے صبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کچھ مسائل ہیں تو ان کا حل پولیٹیکل انتظامیہ، پولیس اور سیاسی نمائندوں کے ساتھ ملکر مقامی سطح پر ہی نکالا جاتا ہے۔ مسائل کے حل کیلئے کہیں اور نہیں، انہی مقامی لوگوں کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔

شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے بتایا کہ وزیرستان کے لوگوں کو درپیش مسائل اجاگر کرنے کرنے کیلئے انہوں نے مقامی، بین الاقوامی، میڈیا، سوشل میڈیا اور پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائی۔ تب جاکر یہ تسلیم کیا گیا کہ وزیرستان میں سب ٹھیک نہیں ہے، مسائل موجود ہیں۔

محسن داوڑ نے عمران خان کے بارے میں مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ساتھی ایم این اے علی وزیر کے ہمراہ گزشتہ نومبر میں وزیراعظم سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے ہمارے مسائل سنے مگر اس کا کوئی نتیجہ ابھی تک نہ نکل سکا۔

علی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے ہماری گزارشات پر شاید اس لیے عمل نہں کیا کہ ہمارے کئی مسائل فوج کی وجہ سے ہیں اور یہ صرف وزیرستان کا نہیں بلکہ ملک اور خطے کا مسئلہ ہے۔

 دریں اثنا افغان طالبان اور امریکا کے مابین امن معاہدہ چند قدم کی دوری پر ہے جس میں افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا طالبان کا مرکزی مطالبہ ہے۔ امریکی افواج کے انخلاف کی صورت میں افغانستان میں ممکنہ انتشار کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگائی ہے۔
میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو اپنی خود مختاری کی حفاظت کے لیے پاک افغان بارڈر کی کڑی نگرانی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے افغانستان مفاہمتی عمل کامیابی سے ہمکنار ہو تاکہ افغان فورسز اپنے ملک میں تحریک طالبان پاکستان جیسی غیر افغان قوتوں سے نمٹ سکے۔
سرحد پر باڑ کے باوجود دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ تو جاری ہے مگر پہلے کی طرح منظم حملے محدود ہوگئے ہیں۔ سرحدی باڑ رواں سال مکمل ہوجائے گی۔ ابھی تک 1200 کلومیٹر طویل سرحد کے صرف 600 کلومیٹر پر باڑ لگائی جاچکی ہے۔ اس منصوبے کی لاگت 15 ارب ڈالر ہے جس میں خاردار تار اور جاسوسی آلات سمیت دیگر انتظامات شامل ہیں۔ سیکیورٹی کی بھی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
دورے کے دوران ہمیں گاؤں غلام خان میں واقع سرحدی ٹرمینل لے جایا گیا جہاں سے افغانستان صرف 3 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ یہ ٹرمینل ان مقامات میں سے ایک ہے جہاں دو طرفہ تجارت ہوتی ہے۔ بض اندازوں کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں یہاں تجارت میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
محسن داوڑ کے مطابق بہت سارے لوگوں کا دارومدار دو طرفہ تجاورت پر ہے جو تاحال دوبارہ شروع نہ ہوسکی۔ کیوں کہ سرحدی باڑ نے بھائیوں اور قبیلوں کو تقسیم کردیا ہے۔
واپسی پر میرانشاہ بازار میں ایک دکاندار فرنیچر کو پالش لگا رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا، آپ نے ووٹ کس کو دیا۔ اس کا جواب تھا محسن داوڑ۔ جب میں نے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ محسن داوڑ کس طرح آپ کی مدد کرے۔ اس کا جواب مختصر اور سادہ تھا ’ہم امن چاہتے ہیں‘‘

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube