Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

گردوارا کرتارپور میں بابا گرونانک کا مزار مسلمانوں نے کیوں تعمیر کیا

SAMAA | - Posted: Jan 26, 2019 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 26, 2019 | Last Updated: 3 years ago

گردوارا کرتارپور صاحب کی عمارت کا بیرونی منظر۔ فوٹو: نوید احمد راٹھور

سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کو صرف سکھ ہی نہیں بلکہ مسلمان بھی عقیدت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس کا ثبوت گردوارا کرتارپور صاحب میں قائم باباجی کی دوسری قبر ہے جو ان کے مسلمان عقیدت مندوں نے بنائی۔

گردوارا کرتارپور کی دیکھ بھال پر مامور رفیق کے مطابق بابا گرونانک نے زندگی کے آخری 18 سال یہاں گزارے تھے۔

گردوارا کرتارپور صاحب لاہور سے 120 کلومیٹر جبکہ پنجاب کے ضلع نارووال سے محض چند کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ اس کو 1921 اور 1929 کے درمیان پٹیالہ کے راجا بھوپندر سنگھ نے تعمیر کروایا تھا۔

گردوارے کی پرشکوہ عمارت سرسبز کھیتوں کے درمیان واقع ہے اور اس میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے بابا جی کی قبر پر نظر پڑتی ہے تاہم یہ ان کی اصل قبر نہیں ہے۔

رفیق نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ باباجی کا جسدخاکی کسی کو نہیں ملا تھا۔ لوگوں کے ہاتھ صرف باباجی کی چادر اور پھول آئے تھے اور انہوں نے ان باقیات کو اس میں دفن کردیا۔

گردوارا کرتارپور صاحب کی عمارت کا بیرونی منظر۔ فوٹو: نوید احمد راٹھور

رفیق نے انکشاف کیا کہ برآمدے میں سب سے پہلے نظر آنے والی باباجی کی قبر مسلمانوں نے تعمیر کی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ باباجی کے مسلمان اور سکھ عقیدت مند ان کی باقیات کی تقسیم پر آپس میں لڑ پڑے تھے جس پر بزرگوں نے باقیات کو دونوں کے مابین برابر تقسیم کیا اور دونوں نے اپنے حصے کی چیزیں الگ قبروں میں دفن کردیں۔ سکھ پیروکاروں کی جانب سے تعمیر کردہ قبر عمارت کے اندر ہے۔

رفیق کا کہنا ہے کہ روزانہ 100 سے زائد افراد باباجی کے ساتھ اظہار عقیدت کرنے گردوارے میں آتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر مسلمان شامل ہوتے ہیں۔

بابا گرونانک کی دونوں قبریں، دائیں جانب ملسمانوں نے کی جبکہ بائیں جانب سکھوں کی تعمیر کردہ ہے۔ فوٹو۔ روحان احمد

گزشتہ برس 28 نومبر کو وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کی بنیاد رکھی۔ چار کلومیٹر طویل یہ راہداری گردوارا کرتارپور صاحب کو بھارتی ضلع گورداسپور میں واقع ڈیرہ بابا نانک کے ساتھ منسلک کرے گی۔ اس راہداری کے ذریعے بھارت میں مقیم سکھ بغیر ویزہ گردوارا کرتارپور صاحب آسکیں گے۔

گردوارا کے جھٹیدار گوبن سنگھ نے سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی حکومت کے اس قدام سے خوش ہیں۔

قریبی گاؤں کے رہائشی نثار احمد نے کہا کہ تقسیم ہند کے وقت گردوارہ گرتارپور بھی انسانی المیہ کی نذر ہوکر ویران ہوگیا تھا اور یہ ایک جنگل کا منظر پیش کر رہا تھا مگر 18 سال قبل سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں سکھ کمیونٹی کے افراد نے یہاں آنا شروع کیا اور گردوارے کو رفتہ رفتہ بحال کردیا۔

کرتارپور کوریڈور پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ فوٹو: نوید احمد راٹھور

حکومت پاکستان نے رواں سال نومبر میں بابا گرونانک کے 550 ویں یوم پیدائش پر کرتارپور کوریڈور مکمل کرکے زائرین کیلئے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت کوریڈور پر کام جاری ہے۔

گردوارے کی زیارت کیلئے سیالکوٹ کے علاقہ سمبڑیال سے آنے والے یاتری نے عمران خان کے اقدم کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارت کو بھی چاہئے کہ پاکستانیوں کو انڈیا کے اندر مقدس مقامات تک آزادانہ آمد و رفت کا انتظام کرے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube