Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

ساہیوال،4افراد کی ہلاکت،16 سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج

SAMAA | , , and - Posted: Jan 20, 2019 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Jan 20, 2019 | Last Updated: 3 years ago

ساہیوال کے علاقے اڈا قادرآباد کے قریب محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اسکواڈ کی  گاڑی پر فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔ مرنے والوں میں خاتون اور بچی بھی شامل تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر پولیس نے ملوث اہلکاروں کو گرفتار کے 16 سی ٹی ڈی اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، جب کہ کارروائی میں زخمی بچوں کو لاہور اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

سی ٹی ڈی اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج

ساہیوال میں متنازعہ فائرنگ کے واقعہ کے بعد 16 سی ٹی ڈی اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔  مقدمہ تھانہ يوسف والا ميں خليل کے بھائي کي مدعيت ميں درج کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقدمے ميں دہشت گردي کي دفعات بھي شامل کي گئي ہیں۔ مقدمے میں 302 اور 7 اے ٹی اے کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔

ساہیوال واقعہ پر سی ٹی ڈی کا نیا بیان

ساہيوال واقعہ پر سي ٹي ڈي کا نیا دعوی سامنے آگیا۔ ترجمان سي ٹي ڈي نے دعوی کرتے ہوئے پھر کہا ہے کہ ذيشان جاويد دہشت گرد ہي تھا اور اس کي کرائے کي گاڑي کالعم تنظيم کے نيٹ ورک کے لئے استعمال کي جاتي رہي ہے۔ اس نے دھماکا خيز مواد جنوبي پنجاب پہنچانا تھا۔ گاڑي سي ٹي ڈي اور حساس اداروں کي نگراني ميں تھي۔ خليل اور اہل خانہ کو مذموم مقاصد کيلئے استعمال کيا۔ سيف سٹي کيمروں نے گاڑي کي نشاندہي کي۔ گاڑی کے پچھلے شيشے سياہ تھے، اس لئے خواتين اور بچے نظر نہيں آئے۔ پيچھے کون بيٹھا تھا نظر نہ آيا۔

ہنگامی اجلاس

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدرا نے ساہیوال واقعہ پر ہنگامی اجلاس وزیراعلی ہاوس میں جاری ہے۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری، وزیرقانون، آئی جی پنجاب سمیت دیگر اعلی حکام شریک ہیں۔

 

واقعہ سے متعلق وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آر پی او سے بات ہوئی ہے، واقعہ کی تحقیقات جاری ہیں، صورت حال کچھ دیر میں واضح ہو جائے گی، ابتدائی تحقیقات کے بعد حقائق سامنے آئیں گے، وزیراعلیٰ نے آئی جی پنجاب سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

مزید تفصیلات: سی ٹی ڈی کے مطابق مرنے والوں کا تعلق ان دہشتگردیوں سے تھا

اس سے قبل سی ٹی ڈی حکام کا دعوی سامنے آیا تھا کہ چاروں افراد مبینہ اغوا کار تھے، جو بچوں کو اغوا کرکے لے جا رہے تھے۔ اہل کاروں نے گاڑی روکنے کا اشارہ کیا تو مبینہ اغوا کاروں نے اہل کاروں پر فائرنگ کردی۔ جوابی فائرنگ سے گاڑی میں سوار چاروں افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے۔ مرنے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

بعد ازاں سی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ مرنے والوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا۔ گاڑی میں تین بچے بھی سوار تھے،جن میں ایک لڑکا اور دو بچیاں شامل ہیں۔ بچے کو گولی لگی ہے جب کہ دونوں بچیاں گاڑی کے شیشے لگنے سے زخمی ہوئیں۔ سي ٹي ڈي ترجمان کے مطابق ساہيوال ميں ہلاک دہشت گرد کي شناخت ذيشان کے نام سے کی گئي ہے۔ دہشت گرد کالعدم تنظيم کا نائب امير تھا، آج کي کارروائي فيصل آباد آپريشن کا تسلسل ہے، يہ نيٹ ورک يوسف رضا گيلاني کے بيٹے اور امريکي شہري کے اغوا ميں ملوث تھا۔

عینی شاہدین

عینی شاہدین کے مطابق کار سواروں نے نہ گولیاں چلائیں، نہ مزاحمت کی، گاڑی سے اسلحہ نہِیں بلکہ کپڑوں کے بیگ ملے۔ گاڑی میں بچے بھی موجود تھے۔ عینی شاہدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اہل کار بچوں کو پہلے ساتھ لے گئی، پھر پیٹرول پمپ پر چھوڑدیا، کچھ دیربعد واپس آکر تینوں بچوں کو اسپتال پہنچایا۔ عینی شاہدین کے مطابق مرنے والی خواتین کی عمریں 40 سال اور 13 برس کے لگ بھگ تھیں۔

 زخمی بچے کا بیان

دوسری جانب فائرنگ سے زخمی ہونے والے بچے نے اسپتال میں میڈیا کو اپنے بیان میں بتایا کہ وہ گاڑی میں سوار ہو کر چچا کی شادی میں شرکت کے لیے بورے والا گاؤں جارہے تھے۔

پولیس اہلکاروں کی گرفتاری اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا قیام

وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملوث اہلکاروں کی گرفتاری اور مکمل تحقیقات کی ہدایت کردی،  جس کے بعد آئی جی پنجاب نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی، ڈی آئی جی ذوالفقار حمید کو جے آئی ٹی سربراہ بنایا گیا ہے، جب کہ آئی ایس آئی، آئی بی اور ایم آئی کے اہلکار بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ آئی جی پنجاب نے جے آئی ٹی کو واقعے کی تحقیقات مکمل کرکے 3 روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بعد ازاں پنجاب پولیس نے واقعہ میں ملوث تمام اہلکاروں کو  گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی۔ قبل ازیں پولیس کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ کارروائی دی ٹی ڈی کی جانب سے کی ہے، اس سلسلے میں وہ کوئی بیان نہیں دے سکتے۔

 اہلِ علاقہ کا فیروزپور روڈ پر احتجاج

علاوہ ازیں ساہیوال واقعے میں مارے جانے والے افراد کے اہلِ علاقہ نے واقعے کے خلاف فیروزپور روڈ پر احتجاج کیا اور سڑک بلاک کردی جس کے باعث میٹرو بس سروس معطل ہوگئی۔ اہلِ علاقہ نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فوری مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ملزمان کو سزا نہیں ملتی احتجاج جاری رہے گا، تاہم ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے پر مظاہرین اور اہل خانہ نے احتجاج ختم کردیا۔

وزیراعظم عمران خان

واقعہ کی اطلاع ملنے پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی نوٹس لیتے ہوئے فوری ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا حکم اور واقعہ کی اصل تحقیقات منظر عام پر لانے کا حکم دیا گیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube