ملائیشین وزیراعظم سرمایہ کاروں کے ہمراہ 23 مارچ کو پاکستان آئینگے، شاہ محمود

January 11, 2019

ملائیشین وزیراعظم 23 مارچ کو سرمایہ کاروں کے وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کریںگے جبکہ عمران خان 22 مارچ کو قطر جائیں گے۔ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ 5 ماہ میں برآمدات میں 4 فیصد اضافہ اور درآمدات میں 11 فیصد کمی ہوئی، معیشت کا پہیہ چلے گا، سرمایہ کاری ہوگی تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک بھی افغان امن عمل میں معاونت کریں، افغان امن عمل کیلئے تمام فریقین کو مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا، افغانستان میں دیرپا امن کیلئے مسئلے کا سیاسی حل ناگزیر ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر عالمی برادری کا ضمیر جھنجھوڑیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ 5 ماہ میں برآمدات میں 4 فیصد اضافہ اور درآمدات میں 11 فیصد کمی ہوئی، معیشت کا پہیہ چلے گا، سرمایہ کاری ہوگی تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، عمران خان 22 مارچ کو قطر کا دورہ کریں گے، خلیجی ملک نے ایک لاکھ پاکستانیوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا ہے، ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد 23 مارچ کو پاکستان پہنچیں گے ان کے ہمراہ سرمایہ کاری وفد بھی ہوگا۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ ملکی معیشت کی بحالی کیلئے دوست ممالک سے مالی معاونت حاصل کی، چین نے 2 ارب ڈالر جبکہ یو اے ای نے 3 ارب ڈالر دینے کا فیصلہ کیا، سعودی عرب نے پاکستان کو 12 ارب ڈالر کا پیکیج دیا۔

ملتان میں گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے میں قانون سازی کیلئے دو تہائی اکثریت درکار ہے، کچھ لوگ اس معاملے میں رخنہ ڈال رہے ہیں، شوشے چھوڑے جارہے ہیں کہ ایک نہیں دو صوبے بناؤ، پہلے ایک تو بننے دیں، مزید تقسیم کی بات سے پیچیدگیاں بڑھیں گی، ملتان اور جنوبی پنجاب والے اپنا کردا ادا کریں۔