عدالتوں سے عوام کو پہلے جیسا انصاف اب نہیں مل رہا، چیف جسٹس

January 11, 2019

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے ساتھ 50 سال تک وابستہ رہا۔ میرے والد صاحب نے بھی یہاں پریکٹس کی ہے مگر عدالتوں سے اب عوام کو وہ انصاف نہیں مل رہا جس طرح پہلے ملا کرتا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ میں الوداعی تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ میں زندگی میں بہت کم رویا ہوں۔ آج آپ کے اس پیار نے میری آنکھیں نم کردیں۔ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میری ہائیکورٹ کے ساتھ نسبت سب سے پرانی ہے۔ ایک بھی چہرہ ایسا نظر نہیں آرہا جس کی لاہور ہائیکورٹ کے ساتھ نسبت مجھ سے پرانی ہو۔ میں کیتھڈرل اسکول میں پڑھتا تھا، میرے والد صاحب یہاں پریکٹس کرتے تھے۔ میں ہائیکورٹ کے ان کوریڈورز میں کھیلتا رہتا تھا۔

اپنی ’غیر متعلقہ سرگرمیوں‘ کا دفاع کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل ایکٹو ازم کی بنیاد نیک نیتی کے تحت انسانیت کی بہتری کیلئے رکھی۔ کسی کے کام میں مداخلت نہیں کی۔ لوگوں کے ساتھ سختی بھی تذلیل کیلئے نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کیلئے کی ہے۔ اگر میں اسپتال گیا ہوں تو یہ کہنے گیا کہ یہاں علاج کے وسائل میسر نہیں۔ میں نے اسپتال میں کسی کا آپریشن نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس آصف سعید کھوسہ کو چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا گیا

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اعتراف کیا کہ مجھ سے دانستہ یا غیر دانستہ کئی غلطیاں ہوئیں مگر ان میں بدنیتی شامل نہیں تھی۔ میں قانون کی حکمرانی کیلئے کوشش کرتا رہا ہوں۔ تمام ججوں سے گزارش کروں گا کہ اس کام کو ملازمت سمجھ کر نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ نعمتوں میں پاکستان کو پہلے نمبر پر شمار کرتا ہوں۔ میں نے کھلی کچہری کا سلسلہ شروع کیا توبہت مظلوم لوگ دیکھے۔ ایسے لوگ بھی نظر آئے جن کے پاس دوا خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔

واضح رہے کہ جسٹس ثاقب نثار 17 جنوری کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے سے سبکدوش ہورہے ہیں۔ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ 18 جنوری سے بطور چیف جسٹس عہدہ سنبھالیں گے۔