سانحہ آرمی پبلک اسکول کمیشن میں اعلیٰ فوجی، پولیس افسران طلب

January 11, 2019

سانحہ آرمی پبلک اسکول تحقیقاتی کمیشن نے سابق کور کمانڈر پشاور سمیت اعلیٰ فوجی اور پولیس افسران کو طلب کرنے کا مراسلہ لکھ دیا ۔ دوسری طرف اس سانحے سے متعلق ازخود نوٹس سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا ہے۔

کمیشن نے مراسلے میں فوجی اور پولیس آفیسرز سے تین دن میں جواب دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا کہ 3 دن میں بتائیں کب آسکتے ہیں ۔

طلب کیے گئے افسران میں سابق کور کمانڈر پشاور جنرل ہدایت الرحمان بھی شامل ہیں۔ وہ آرمی پبلک اسکولز اور کالجز کے پیٹرن ان چیف بھی ہیں۔ دوسرے افسران میں بریگیڈیر مدثر اعظم جو کہ آرمی اسکول بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ہیں، بریگیڈیر عنایت اللہ، آرمی میڈیکل کور کے میجر ڈاکٹر عاصم شہزاد اور سیکرٹری بورڈ آف گورنرز بریگیڈیئر میجر عمران شامل ہیں۔

طلب کیے گئے پولیس آفیسرز میں سابق آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ناصر خان درانی اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی پشاور محمد عالم شنواری شامل ہیں۔ کے پی حکومت کے سیکرٹری اختر علی شاہ کو بھی طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول کی تحقیقات کے لیے کمیشن چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی ہدایت پر بنایا گیا ہے۔

دوسری طرف سپریم کورٹ میں سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخو دنوٹس چودہ جنوری کو سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا ہے ۔

متعلقہ خبر: جوڈیشل کمیشن کے جج کا حتمی رپورٹ سے آرمی پبلک اسکول کے دورہ کا فیصلہ

چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ سماعت کریگا ۔

سماعت کے دوران سانحہ اے پی ایس پر قائم جوڈیشل کمیشن رپورٹ پیش کریگا۔

از خود نوٹس کی سماعت کے لیے اٹارنی جنرل، چیف سیکرٹری کے پی اور سیکرٹری داخلہ کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔

کمیشن نے سیکرٹری اور ایڈووکیٹ جنرل کے پی کو بھی نوٹس جاری کردیے ہیں۔

یاد رہے 5 اکتوبر کو چیف جسٹس سپریم کورٹ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول کی تحقیقات کیلئے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو فوری طور پر کمیشن قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل کمیشن کو چھ ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی ۔

سپریم کورٹ کے حکم پر سانحہ آرمی پبلک اسکول کی تحقیقات کے لئے جسٹس محمدابراہیم کو تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، جسٹس محمد ابراہیم خان پشاور ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج ہیں ۔