وزیراعظم ہاؤس کا بل 15 لاکھ کیسے آیا، آڈٹ کا حکم

January 10, 2019

وزیراعظم عمران خان نے پرائم منسٹر ہاؤس کی بجلی کا بل 15 لاکھ آنے کا ںوٹس لیتے ہوئے آڈٹ کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعظم نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ جب وہ پرائم منسٹر ہاؤس میں رہتے ہی نہیں تو اتنی بجلی کیسے استعمال ہوئی۔

وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں وزیراعظم ہاؤس میں 58 ہزار یونٹ تک بجلی استعمال ہوتی تھی جو اب کم ہوکر 44 ہزار پر آگئی ہے مگر عمران خان نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے اسٹاف کا بھی آڈٹ کیا جائے۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل 172 ناموں کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو معاملے پر غور کرکے رپورٹ پیش کرے گی جبکہ مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو کے نام ای سی ایل سے نکالنے کے عدالتی حکم کو بھی چیلنج کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں تجاویز پیش کرے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ اوورسیز پاکستانی کون کون سی سرکاری نوکری اور عہدوں کے لیے اہل ہے۔ اس بارے میں وزیراعظم نے وزارت قانون کا حکم دیا ہے کہ 48 گھنٹوں کے اندر ان سرکاری عہدوں کی لسٹ تیار کی جائے جس پر دوہری شہریت کے حامل پاکستانی تعینات نہیں ہوسکتے۔

وفاقی کابینہ نے معاشی پالیسیوں اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدات میں 5 اعشاریہ 4 فیصد اضافہ جبکہ درآمدات میں 8 اعشاریہ 5 فیصد کمی واقع ہوگئی ہے اور حکومت کی ترجیح ایکسپورٹ انڈسٹری ہے۔

کابینہ نے گیس بحران سے نمٹنے کے لیے وزارت پٹرولیم کو جامع حکمت علی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراطلاعات نے کہا کہ ملکی ضروریات کا صرف 28 فیصد ہمارے ہاں پیدا ہوتا ہے جبکہ 63 فیصد ایل پی جی استعمال کرتے ہیں جبکہ ایل پی جی کے مقابلے میں مقامی گیس مہنگی پڑتی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ماضی میں وزارت پٹرولیم منافع میں جارہی تھی مگر جیسے ہی 2013 میں شاہد خاقان عباسی نے وزارت کا قلمدان سنبھالا، خسارہ شروع ہوگیا اور وہ جاتے ہوئے 157 ارب کا قرضہ چھوڑ کر گئے۔

وفاقی کابینہ نے کراچی کی ترقی پر براہ راست توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں کراچی کا ترقیاتی فنڈ مرادعلی شاہ کے ذریعے اومنی گروپ کو جاتا ہے، اومنی گروپ کے ذریعے دبئی اور پھر وہاں سے لندن اور پیرس نکل جاتا ہے۔ اس لیے وفاقی حکومت نے براہ راست کراچی میں ترقیاتی کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی کابینہ نے ایئرمارشل ارشد ملک کو کو پی آئی اے کا قائم مقام چیئرمین تعینات کرنے کی منظوری دے دی