Saturday, October 16, 2021  | 9 Rabiulawal, 1443

داعش اور تحریک طالبان بدستور پاکستان کیلئے خطرہ، رپورٹ

SAMAA | - Posted: Jan 7, 2019 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 7, 2019 | Last Updated: 3 years ago

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فور پیس اینڈ اسٹڈیز (پی آئی پی ایس) کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے واقعات میں 29 فیصد کمی کے باوجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان، ذیلی گروپ اور داعش (خراسان گروپ) اب بھی پاکستان کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔

پی آئی پی ایس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال 2018ء میں ملک بھر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں 595 افراد جاں بحق ہوئے، ان میں 38 فیصد ہلاکتیں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں 5 ہولناک حملوں کے نتیجے میں ہوئیں، جن کی ذمہ داری آئی ایس آئی ایس (داعش) نے قبول کی۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی ہلاکتوں کا 59 فیصد 354 افراد بلوچستان میں دہشت گردی کا شکار بنے، گزشتہ سال 19 خودکش حملوں سمیت 262 دہشت گرد حملے کئے گئے، ان میں سے 171 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کی ذیلی تنظیمیں ملوث تھیں۔

سال 2018ء میں بلوچستان اور سندھ کی قوم پرست شدت پسند گروپوں کے حملوں میں 96 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ دونوں صوبوں میں 50 افراد کو لسانی بنیادوں پر قتل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں 120 شدت پسند بھی مارے گئے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube