Thursday, September 16, 2021  | 8 Safar, 1443

سپریم کورٹ کے حکم پر بلاول اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے خارج

SAMAA | - Posted: Jan 7, 2019 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 7, 2019 | Last Updated: 3 years ago

سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاونٹس کیس نیب کو بھجوا دیا، جب کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بلاول بھٹو، مراد علی شاہ، اٹارنی جنرل اور فاروق نائیک کے بھائی کا نام ای سی ایل سے نکال دیا۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ کے جے آئی ٹی میں جہاں جہاں بلاول کا نام شامل...

سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاونٹس کیس نیب کو بھجوا دیا، جب کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بلاول بھٹو، مراد علی شاہ، اٹارنی جنرل اور فاروق نائیک کے بھائی کا نام ای سی ایل سے نکال دیا۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ کے جے آئی ٹی میں جہاں جہاں بلاول کا نام شامل ہے، اسے حذف کیا جائے۔ ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ملک ریاض کوئی مقدس گائے نہیں، پنڈورا باکس سب کے خلاف کھلے گا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل سپریم کورٹ بینچ نے منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ای سی ایل میں ڈالے گئے ناموں کا معاملہ جائزہ کمیٹی کو بھجوا دیا ہے اور 10 جنوری کو اس معاملے میں مزید پیشرفت متوقع ہے۔

بلاول کا نام ای سی ایل میں

چیف جسٹس نے جے آئی ٹی کے وکیل سے استفسار کیا کہ پہلے یہ بتائیں کہ بلاول زرداری کو کیوں ملوث کیا گیا؟، وہ معصوم بچہ ہے، معصوم بلاول نے پاکستان میں آکر ایسا کیا کردیا، وہ صرف اپنی والدہ کی لیگیسی کو آگے بڑھا رہا ہے، آپ نے اس کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا۔ جس پر جے آئی ئی وکیل کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو جعلی اکاؤنٹس کے بینیفشری ہیں۔

 

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے بلاول زرداری کو بدنام کرنے کے لیے انہیں معاملے میں شامل کیا ہے یا جے آئی ٹی نے کسی کے کہنے پر بلاول زرداری کو شامل کیا۔ جے آئی ٹی نے تو اپنے وزیراعلی کی عزت نہیں رکھی، جے آئی ٹی نے وزیراعلی کا نام ای سی ایل میں شامل کردیا۔ مراد علی شاہ کا نام جے آئی ٹی نے مؤقف جانے بغیر شامل کیا۔ بعد ازاں چیف جسٹس کے حکم پر بلاول بھٹو زرداری کا نام ای سی ایل اور جے آئی ٹی سے نکال دیا، جب کہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا نام بھی ای سی ایل سے نکال دیا گیا۔

 

عالتی حکم پر فاروق نائیک اور اٹارنی جنرل کے بھائی کے نام بھی جے آئی ٹی رپورٹ سے حذف کردیئے گئے۔ تین رکنی اعلی عدالتی بینچ نے ریمارکس دیئے کہ نے جعلی اکاؤنٹس کیس نیب کوبھجوا رہے ہیں، نیب جے آئی ٹی رپورٹ اور مواد کی روشنی میں تحقیقات کرے، تحقیقات کے بعد کیس بنتا ہو تو ریفرنس دائر کیا جائے، جب کہ نیب باوقت ضرورت بلاول اور مراد علی شاہ کو طلب کرکے آزادانہ تحقیقات کرسکتا ہے۔ نیب حکام کو حکم دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ نیب 2 ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے فیصلہ کرے۔

ملک ریاض اور بحریہ ٹاون

سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود بحریہ ٹاون کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے پیرا گراف 275 میں فاروق ایچ نائیک کے بیٹے کا ذکر ہے، الزام لگایا گیا ہے کہ کراچی میں فاروق نائیک کے بیٹے نے دو گھر اہلیہ کے نام خریدے، یہ بھی کہا گیا کہ نیب فاروق نائیک اور سندھ حکومت کے گٹھ جوڑ کی تحقیقات کر رہا ہے، تاہم ہمیں وکلا کے خلاف تحقیقات پر اعتراض ہے۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ تحقیقات میں علم ہو جائے گا گٹھ جوڑ ہے یا نہیں؟ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے، جس پر بحریہ ٹاون کے وکیل نے جوابا کہا کہ ایسی باتوں سے پنڈورا بکس کھلے گا، وکیل کے جواب پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم سب کے پنڈورا بکس کھول رہے ہیں، فاروق نائیک سے متعلق مواد کا جائزہ لیں گے، آپ لوگ ملک ریاض کے سحر میں مبتلا ہیں، ملک ریاض کا معاملہ پہلے ہی عمل درآمد بینچ دیکھ رہا ہے، آپ لوگ ہمیں مجبور نہ کریں کہ عمل درآمد بینچ کی سماعت آج کرکے گرفتاری کا کہیں، انہوں نے حکام سے سوال کیا کہ ملک ریاض کے خلاف اتنا مواد ہے تو گرفتار کیوں نہیں کیا؟، یہ کیا طریقہ کار ہے کہ ہر بڑے آدمی کے لیے وکلاء کی ٹیم آجائے، آپ کہنا چاہتے ہیں ملک ریاض ایماندار ترین آدمی ہے، نیب اس مواد کی تحقیقات کرلے گا کیس بنتا ہوا تو فائل کر دیگا۔

انور مجید اور اومنی گروپ

سماعت کے دورا انور مجید کے وکیل نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ انور مجید اور عبد الغنی مجید اگست سے گرفتار ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ ٹرائل جلد مکمل کیا جائے، عدالت جے آئی ٹی رپورٹ کی توثیق نہ کرے، ایف آئی اے عبوری چلان جمع کرا چکا ہے، چلان جمع کرانے کے بعد جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کی گئی ہے، جے آئی ٹی میں نہ آنے والی اومنی گروپ کی کمپنیوں کو چلنے دیا جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چینی رہن رکھوائے بغیر ہی اربوں روپے قرض لیا، انور مجید اور عبد الغنی مجید کیطرف سے جواب دیں چینی کدھر ہے؟۔

 

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سوال یہ ہے کہ شوگر مل کی خریداری کیلئے پیسہ کدھرسے آیا، شوگر مل کا پیسہ جعلی اکاوئنٹس سے ادا ہوا، جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے شوگر مل کی خریداری کے بارے میں غلط تاثر دیا، نوڈیرو شوگر 2001 اور دادو شوگر مل 2008 میں خریدی، جس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ شوگر ملوں کی خریداری کے وسائل کہاں سے آئے۔

 

جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ مجرمانہ پہلو کا جائزہ سپریم کورٹ نہیں لے سکتی، مجرمانہ پہلو کا جائزہ ٹرائل کورٹ لے گی، جس پر اومنی گروپ کے وکیل کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے ازخود نیب کیسز بنا دیئے جو عدالت کا اختیار تھا۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ جعلی اکاونٹس کا تعلق بظاہر سیاستدانوں، بحریہ ٹاون اور اومنی گروپ سے بنتا ہے، ریکارڈ پر اپنا مواد موجود ہے کہ کوئی اندھا بھی یقین کرلے، اومنی کو ثابت کرنا ہے کہ یہ پیسا لانچوں سے نہیں آیا، اربوں والے کھربوں کے مالک کیسے بنے، کیا یہ پیسہ من و سلوی کے ذریعے آیا۔

 

ایک موقع پر اومنی کے وکیل کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی والوں نے فاروق ایچ نائیک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس پر چیف جسٹس نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ فاروق نائیک کو چھوڑیں، اومنی کی بات کریں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube