درہ آدم خیل سے اغوا کیے گئے کان کنوں کو بازیاب کرالیا گیا

January 7, 2019

File Photo

کوہاٹ دره آدم خیل کے علاقے زرغون خیل میں کوئلے کی کان سے گزشتہ رات اغواء ہونے والے تمام کان کنوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کی شب نامعلوم مسلح افراد نے درہ آدم خیل کے علاقے زرغون خیل سے کوئلے کی کان میں کام کرنے والے 14 مزدوروں کو اغواء کیا تھا۔

 

واقعہ کی اطلاع ملنے پر سیکیورٹی فورسز نے درہ آدم خیل کے اطراف میں پہاڑوں کو سیل کرکے آپریشن کا آغاز کیا۔ سخت چیکنگ اور سرچ آپریشن کے باعث اغواء کار مغویوں کو درہ اور خیبر کے سرحدی پہاڑی علاقے ڈونگے میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

 

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جس مقام پر مغویوں کو رات گئے تک رکھا گیا تھا وہاں سےدستی بم، پستول اور کئی ماسک بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ بازیاب مزدوروں سے بھی اغواء کاروں کی شناخت کے لئے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بازیاب کان کنوں کا تعلق شانگلہ اور درہ آدم خیل سے ہے۔

 

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں سے کان کنوں کے اغوا کی وارداتیں سامنے آئی ہیں۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں انتہائی نامساعد حالات میں کام کرنے والے کان کنوں کو گیس بھرنے اور کان بیٹھ جانے سمیت اغوا کیے جانے کے بھی خطرات کا سامنا رہتا ہے، جب کہ متعدد کان کنوں کو نامعلوم افراد کی جانب سے موت کے گھاٹ بھی اتارا جاچکا ہے۔ حکومت کی جانب سے ابھی تک کان کنوں کے تحفظ کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات یا اعلانات سامنے نہیں آئے ہیں۔