Thursday, October 22, 2020  | 4 Rabiulawal, 1442
ہوم   > Latest

عزیر بلوچ کو کہاں رکھا گیا ہے؟، عدالت نے سیکریٹری دفاع سے جواب مانگ لیا

SAMAA | - Posted: Jan 2, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 2, 2019 | Last Updated: 2 years ago

لياری گينگ وار کے سرغنہ عزير بلوچ کو کہاں رکھا گيا ہے؟ وفاقی حکومت کے جواب جمع نہ کرانے پر عدالت نے سیکریٹری دفاع سے  جواب مانگ ليا۔

سندھ ہائیکورٹ نے عزیر بلوچ کو ٹرائل کورٹ میں پیش نہ کرنے کیخلاف والدہ کی درخواست پر جواب جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری دفاع سے جواب مانگ لیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں عزی بلوچ کو عدالت میں پیش نہ کرنے سے متعلق معاملے کی سماعت ہوئی، کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ کی والدہ رضیہ بیگم نے درخواست دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جنوری 2016ء میں عزیر بلوچ کی گرفتاری ظاہر کی گئی، ملزم کیخلاف 40 سے زائد مقدمات میں چالان پیش کردیا گیا مگر اسے 12 اپریل 2017ء کے بعد سے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، خدشہ ہے عزیر بلوچ کو لاپتہ کردیا گیا، عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔

سندھ ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت سمیت متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے جواب جمع کرانے کا حکم دیا تھا، تاہم جواب نہ آنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عزیر بلوچ کی کسٹڈی سے متعلق آرمی ہیڈ کوارٹر کو خط لکھا ہے، جواب نہیں ملا۔

عدالت نے پوچھا کہ عزیر بلوچ کو کہاں رکھا گیا ہے کیوں نہیں بتایا جارہا؟، احکامات کے باوجود کسی فریق نے جواب جمع نہیں کرایا، سیکریٹری دفاع 22 جنوری کو پیش ہو کر جواب دیں۔

رضیہ بیگم کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود عزیر بلوچ کی اہلخانہ سے ملاقات نہیں کرائی جارہی۔ اسٹنٹ اٹارنی جنرل پاکستان بولے کہ عدالتی احکامات پر تحریری جواب جمع کرانا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب عزیر بلوچ کی گرفتاری سے متعلق رینجرز نے تحریری جواب جمع کرادیا، جس میں کہا گیا ہے کہ کالعدم پیپلز امن کمیٹی سربراہ پاک آرمی کی تحویل میں ہے، عزیر بلوچ کا دہشتگردی اور غداری کے مقدمات میں ملٹری ٹرائل ہورہا ہے۔

گزشتہ سماعت پر آئی جی جیل خانہ جات نے بھی اپنے جواب میں کہا تھا کہ عزیر بلوچ 11 اپریل 2017ء سے فوج کے پاس ہے، جیل حکام نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں اسے ایک میجر کے حوالے کیا تھا۔

کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ پر کراچی میں دہشت گردی، قتل و غارت اور اغواء سمیت دیگر سنگین الزامات ہیں جبکہ ماضی میں ان کے کئی سیاسی رہنماؤں سے بھی تعلقات رہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube