Thursday, March 4, 2021  | 19 Rajab, 1442
ہوم   > Latest

مصنوعی ٹانگوں کے ساتھ بھی ہمت نہ ہارنے والے پاکستانی

SAMAA | - Posted: Dec 30, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 30, 2018 | Last Updated: 2 years ago

تیس سالہ گلاب سرور کی تمام امیدیں اس وقت ٹوٹ گئیں جب تین سال قبل عسکریت پسندی کا شکار درہ آدم خیل میں بارودی سرنگ دھماکے میں ان کی بائیں ٹانگ ضائع ہوگئی۔ واقع کی تفصیل بتاتے ہوئے گلاب سرور کہتے ہیں کہ میں ایک جگہ سے گزر رہا تھا جہاں ایک چھوٹی بارودی سرنگ...

تیس سالہ گلاب سرور کی تمام امیدیں اس وقت ٹوٹ گئیں جب تین سال قبل عسکریت پسندی کا شکار درہ آدم خیل میں بارودی سرنگ دھماکے میں ان کی بائیں ٹانگ ضائع ہوگئی۔


واقع کی تفصیل بتاتے ہوئے گلاب سرور کہتے ہیں کہ میں ایک جگہ سے گزر رہا تھا جہاں ایک چھوٹی بارودی سرنگ بارش کے پانی کے ساتھ بہتی ہوئی آئی۔ میں دیکھ نہ سکا اور اس پر کھڑا ہوگیا جس کی وجہ سے ایک ٹانگ ضائع ہوگئی۔ لیکن گلاب سرور نے ہمت نہیں ہاری اور راولپنڈی کے نجی اسپتال سے اپنے لیے ایک مصنوعی ٹانگ بنوا لی۔ بعد میں مصنوعی ٹانگ کو مرمت کی ضرورت بھی پڑی کیونکہ یہ مکمل آرام دہ نہیں تھی۔

مصنوعی ٹانگ کےلیے گلاب سرور پشاور میں قائم پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پروستھیٹکس اور آرتھوٹک سائنسس (پی آئی پی او ایس) گئے۔ پی آئی پی او ایس ایک غیر منافع بخش خود مختار ادارہ ہے جو کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کا حصہ ہے اور یہ مریضوں سے فیس نہیں لیتا۔ پی آئی پی او ایس کے ایک ڈاکٹر نے گلاب سرور کی ٹانگ کا معائنہ کرتے ہوئے نئی مصنوعی ٹانگ لگوانے کےلئے انہیں کچھ مشق اور احتیاطی تدابیر تجویز کیں۔

پی آئی پی او ایس پیدائشی جسمانی معذور، پولیو یا دائمی بیماری، حادثات اور بم دھماکوں کے متاثرین کےلئے مصنوعی اعضاء اور تربیت فراہم کرتا ہے۔ پی آئی پی او ایس نے جرمن ادارے جی ٹی زیڈ کے تعاون سے 1981 میں خیبر ٹیچنگ اسپتال کے ایک کمرے سے کام کا آغاز کیا۔ اصل میں پی آئی پی او ایس کا مقصد 80 کی دہائی میں افغان جنگ سے متاثرہ لوگوں کو مصنوعی اعضاء اور تربیت فراہم کرنا تھا۔ ابتداء میں جرمن ماہرین نے کام کیا لیکن بعد میں مقامی افراد بھی تربیت یافتہ ہوگئے۔ بالآخر، یہ ورکشاپ ایک تدریس انسٹی ٹیوٹ میں تبدیل ہوا اور پروستھیٹکس اور آرتھوٹک سائنسس میں بیچلرز پروگرام شروع کر دیا۔ سن 1988 سے سینکڑوں طالب علم گریجویٹ کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔

ایک سہولت ناکافی ہے

ایک وقت تھا جب پی آئی پی او ایس میں دہشت گرد حملوں میں اپنے اعضاء گنوانے والوں کا رش ہوا کرتا تھا۔ تاہم خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے پر ایسے مریضوں کی تعداد کم ہوگئی۔

پی آئی پی او ایس کی کنسلٹنٹ ڈاکٹر نیلم عبداللہ کہتی ہیں کہ دہشت گردی کے عروج کے زمانے میں مریضوں کی تعداد بہت زیادہ تھی تاہم اب ایسا بالکل بھی نہیں، یہاں آنے والے زیادہ تر افراد ٹریفک حادثات کے شکار اور شوگر کے مریض ہوتے ہیں، یہاں مریض آتے وہیل چیئرز یا سہارے سے ہیں مگر اپنے پیروں پر اور معاشرے کا مؤثر حصہ بن کر جاتے ہیں۔ یہاں مریضوں کو علاج کے ذریعے اس قابل بنا دیا جاتا ہے کہ وہ ملازمت کر سکیں۔

انسٹی ٹیوٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر عمر ایوب خان کو صوبے میں شوگر کے باعث اعضاء سے محروم ہونے والے مریضوں کی تعداد میں اضافے پر تشویش ہے۔ ڈاکٹر عمر کہتے ہیں کہ بحالی آلات، تربیت اور ایک آلہ بنانے کےلئے کم سے کم ایک ہفتے کا وقت لگتا ہے، معاون آلات کے حصول کیلئے 1200 افراد انتظار میں ہیں۔

اپنا کردار ادا کریں

ڈاکٹر عمر ایوب خان کو یقین ہے کہ معاشرے کو حادثات میں اعضاء سے محروم ہونے والوں اور قدرتی معذور افراد کو صدمے اور دباؤ سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں موجود معذور افراد کو برے القاب سے پکارنے کے بجائے عام شہری کی طرح سلوک کرنا چاہیئے۔

پشاور کے 38 سالہ اسکول ٹیچر ثمین خان پولیو سے متاثرہ اپنی ٹانگ کا 2012ء سے پی آئی پی او ایس میں علاج کرا رہے ہیں، کہتے ہیں کہ پہلے میں شیرپاؤ اسپتال (خیبر ٹیجنگ اسپتال پشاور) سے لیا گیا لکڑی اور لوہے کی راڈ سے بنا پیر استعمال کرتا تھا جو بہت وزنی تھا، میں نے اپنے دوست سے اس ادارے کا سنا تو یہاں علاج کیلئے آنا شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پی آئی پی او ایس سے ملنے والے آرتھوٹک بریس سے اب میں باآسانی چل سکتا ہوں حتیٰ کہ موٹر سائیکل بھی چلا سکتا ہوں اور سہولت سے اپنی نوکری پر جاسکتا ہوں۔ ثمین خان چاہتے ہیں کہ لوگ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کےلئے قطرے ضرور پلائیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube