Tuesday, January 18, 2022  | 14 Jamadilakhir, 1443

فاٹا میں سونا سمجھے جانے والا اسلحہ اہمیت کیوں کھونے لگا؟

SAMAA | - Posted: Dec 27, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 27, 2018 | Last Updated: 3 years ago

گل حیات بندوقوں سے بہت محبت کرنے والے تھے جو کہ اب ماضی کا حصہ ہے۔ گل حیات کے احساسات پہلے جیسے نہیں اور یہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کیلئے غیر معمولی بات ہے۔


گل حیات کا کہنا ہے کہ اسلحہ ہم ایک شغل (شوق) کےلئے استعمال کرتے تھے اور انسان کو انسان نہیں سمجھتے تھے، ہمارے ساتھ دو تین بندوقوں والے گھومتے تھے جس پر ہم خوش ہوتے اور اکثر لوگوں کو مارتے پیٹتے کیونکہ ان کے پاس اسلحہ نہیں ہوتا تھا۔

ضلع مہمند جو کبھی ’’فاٹا‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا سے متعلق گل حیات کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب یہاں اسلحہ کی بھرمار ہوتی تھی اور یہ صرف تشدد کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ یہ یہاں کی روایت تھی۔

اب ملک میں ’’فاٹا‘‘ نہیں رہا اور گل حیات جیسے لوگوں کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ پہلے کی طرح اسلحہ کی ضرورت نہیں رہی۔

قبائل کے مردوں کیلئے یہ معمول تھا کہ جب وہ سفر کرتے تھے تو اسلحہ ان کے پاس ہوتا تھا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں 1901 کا ایف سی آر قانون کا اطلاق تھا اور امن و امان کو برقرار رکھنے یا خود کو تحفظ دینے کا قبائلیوں کا اپنا طریقہ تھا۔ 1970 میں افغان جنگ کے نتیجے میں یہاں اسلحہ کلچر میں مزید اضافہ ہوا جبکہ نائن الیون سانحہ نے سونے پر سھاگہ والا کام کیا۔ پاکستانی حکومت نے ایک مرتبہ قبائلی سرداروں کو ہتھیار ڈالنے کے حوالے سے کوشش کی لیکن بات نہ بن سکی۔

لیکن 9/11 کے بعد، اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا کہ کچھ لوگوں کے پاس اسلحہ کا ہونا ٹھیک نہیں ہے۔ صرف اس کام کےلئے، کئی سیکورٹی آپریشنز نے تقریبا 8 سال میں عسکریت پسندوں کے علاقے کو بڑے پیمانے پر اسلحہ سے پاک کر دیا۔

اس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کے باقی حصوں سے اس علاقے کی باقیات ختم ہو جائے۔ پھر اس سال، فاٹا کے سات قبائلی اضلاع باجوڑ، مہمند، اورکزائی، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، کرم اور خیبر کو صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے بنوں اور کوہاٹ میں انضمام کر دیا گیا۔ علاقے میں امن کی واپسی اور ریاست کی موجودگی سے اسلحہ کی ضرورت ماند پڑ گئی۔

لہذا دره آدم خیل کے علاوہ ميران شاہ اور اک کا غنڈ جیسے بازاروں میں ہتھیاروں کے فروخت کا کاروبار ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اسلحہ ڈیلر نصر اللہ بتاتے ہیں کہ اسلحہ کی خرید و فروخت کا وقت چلا گیا کیونکہ کوئی کچھ خریدتا نہیں، اب تعلیم کا دور ہے اور کاروبار کو بدلنے کا سوچ رہے ہیں۔ اب کوئی ہتھیاروں میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

سال 2008 سے قبل اک کا غنڈ میں اسلحہ کی درجنوں دکانیں تھیں لیکن اب صرف دو باقی رہ گئی ہیں۔

ایک اور اسلحہ ڈیلر محمد رفیق کا کہنا ہے کہ پہلے میری اسلحہ کی دکان تھی لیکن اب گزشتہ تین سال سے نان بائی کا کام کرتا ہوں۔ الحمد اللہ اب اس روزگار میں بہت خوش ہوں کیونکہ تیس پینتیس ہزار ماہانہ ملتا ہے، اس کام میں سکون زیادہ ہے کیونکہ دن بھر کام کرکے رات کو سکون سے سو جاتا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ اسلحہ کے کام میں بہت پریشانی رہتی تھی کیونکہ مال پکڑے جانے اور خسارے کا خطرہ ہوتا تھا اور یہ بھی ریشانی رہتی کہ یہ اسلحہ لوگ کس کام کےلئے استعمال کریں گے۔

اسلحہ مرمت کا کام کرنے والے حضرت ولی جیسے لوگ بھی کائی دوسرا کاروبار کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ حضرت ولی بتاتے ہیں کہ پہلے اسلحہ کی مرمت کا بہت رش ہوتا تھا لیکن اب ہفتوں بعد کوئی بندہ آتا ہے جو کہ چھوٹے بور کا اسلحہ مرمت کرواتا ہے۔ پہلے سرکاری اسلحہ سمیت ہر طرح کا اسلحہ مرمت کےلئے آتا تھا۔

ایک قبائلی بزرگ نے بتایا کہ ماضی میں وہ ہتھیاروں کے بارے میں فخر محسوس کرتے تھے یہاں تک کہ ہم اپنی زمینوں کو بھی حریف قبائلیوں سے اپنے دفاع کیلئے خریدنے کیلئے استعمال کرتے تھے۔ لیکن اب ہم ریاستی رٹ کی موجودگی کو اچھا سمجھتے ہیں کیونکہ اگر ہم پر کوئی حملہ کرے گا تو سرکاری فورسز نمبٹ لے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube