Friday, October 23, 2020  | 5 Rabiulawal, 1442
ہوم   > Latest

پندرہ جانیں قربان کرکے ہزاروں زندگیاں بچانے والا بم ڈسپوزل یونٹ خیبرپختونخوا

SAMAA | - Posted: Dec 17, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 17, 2018 | Last Updated: 2 years ago

بم ڈسپوزل یونٹ خیبرپختونخوا کے جوان اپنی زندگیوں پر کھیل کر ہر تین دن میں 2 بم ناکارہ بناکر عوام کی جانیں بچانے میں کوشاں ہیں، گزشتہ 9 سالوں میں 5 ہزار سے زائد دہشت گرد حملے ناکام بناکر ہزاروں جانیں بچالی گئیں، اس دوران بی ڈی یو کے 15 افسران و اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔ ہیروز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خواتین سمیت ہزاروں افراد نے بم ناکارہ بنانے کی تربیت حاصل کرلی۔

خیبرپختونخوا میں 2009ء میں دہشت گردی کا عفریت کھل کر سامنے آیا اور پورا صوبہ آگ و خون کی لپیٹ میں آگیا، وطن کی حفاظت کیلئے جہاں خیبر پختونخوا پولیس کے ہر یونٹ نے دہشت گردی کا مردانہ وار مقابلہ کیا، وہیں چند اہلکاروں پر مشتمل بم ڈسپوزل یونٹ کے بہادر جانبازوں نے مناسب تربیت اور جدید آلات نہ ہونے کے باوجود صوبہ بھر میں ہزاروں بم ناکارہ بناکر بار بار تباہی کے منصوبوں کو ناکام بنایا اور سیکڑوں قیمتیں جانیں بچائیں۔

حکم خان اور چند افراد پر مشتمل ان کی ٹیم نے بم ناکارہ بنانے کی باضابطہ تربیت کے بغیر یہ کارنامہ انجام دیا، جب پہلے پہل انہیں بم کی اطلاع ملتی تو وہ تجربات اور غلطیوں سے بم ناکارہ بنانا سیکھتے تھے، یہ افراد نصب شدہ بم کو ناکارہ بناتے ہوئے نئی ٹیکنالوجی سے آگاہی حاصل کرتے تھے جس میں یقیناً جان کا خطرہ 99 فیصد ہوتا تھا۔

کاؤنٹر ٹیررازم پالیسی وضع کرنے میں کردار ادا کرنے والے سینئر پولیس افسر نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ شدت پسندوں کے پاس پولیس کے برعکس جدید ٹیکنالوجی موجود تھی، وہ دھماکوں میں واشنگ مشین کے ٹائمر، دھماکا خیز مواد کا پتہ لگانے سے محفوظ رکھنے والے کور اور لاشیں بھی استعمال کرتے تھے۔ اس سب کے باوجود بی ڈی یو نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا حالانکہ وہ خود بھی ان حملوں کا ہدف تھے۔

ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز خیبر پختونخوا پولیس ڈی ایس پی  وقار احمد کہتے ہیں کہ بم ڈسپوزل یونٹ کے 15 افسران جام شہادت نوش کرچکے ہیں، جن میں سینکڑوں بموں اور کئی کلو گرام دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنانے والے ہیرو انسپکٹر حکم خان اور اے ایس آئی عبدالحق بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پشاور میں 6، بنوں میں 5، سوات اور صوابی میں 2، 2 اہلکار شہریوں کو بچانے کیلئے دھماکا خیز مواد ناکارہ بناتے ہوئے شہید ہوئے، دہشت گردی میں تیزی آئی تو بی ڈی یو میں بھی جدت لائی گئی اور اہلکاروں کو جدید آلات سے لیس کیا گیا، اس یونٹ کو آر سی وی (ریموٹ کنٹرول وہیکل) فراہم کی گئی تاکہ یونٹ کے جوان اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر بموں کو ناکارہ بناسکیں لیکن یہ ریموٹ کنٹرول مشینری صرف ہموار علاقے میں استعمال کی جاسکتی تھی کیونکہ پتھریلے اور ناہموار علاقے میں اس کی نقل و حرکت ممکن نہیں جبکہ دو سال سے بیٹیریاں خراب ہونے کے باعث مشین بے کار پڑی ہے۔

بم ڈسپوزل ماہرین کی ضروریات کے پیش نظر 2015ء میں نوشہرہ میں پولیس اسکول آف ایکسپلوزیو ہینڈلنگ قائم کیا گیا۔ ڈائریکٹر پولیس اسکول نیاز محمد یوسفزئی کا کہنا ہے کہ یہاں جوانوں کیلئے ایکسپلوزیو ہینڈلنگ سے متعلق کورسز کا اہتمام کیا جاتا ہے، اس تربیتی ادارے میں اب تک 83 خواتین سمیت 3 ہزار سے زائد پولیس افسروں و جوانوں کو بنیادی تربیت دی جاچکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیس اسکول آف ایکسپلوزیو ہینڈلنگ میں خیبر پختونخوا سمیت اسلام آباد پولیس، بلوچستان اور آزاد کشمیر پولیس، لیویز، ریلوے اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کو بھی تریبیت دی جاچکی ہے۔

نوشہرہ ڈسٹرکٹ سے تعلق رکھنے والی بی ڈی یو کی خاتون اہلکار صفیہ ناز کہتی ہیں کہ بم ڈسپوزل یونٹ کے ہیروز نے اپنی جان دے کر عوام کی زندگیاں بچائیں، میرا بھی یہی شوق ہے کہ آگے جاکر عوام کی جان و مال کی حفاظت کروں۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار علی کا کہنا ہے کہ انہیں جب کسی بم کی اطلاع ملتی ہے تو فوراً خیال معصوم شہریوں کی جانب جاتا ہے، یہ جذبہ ہی ہمیں معذوری اور موت سے لاپروا ہو کر اپنا کام کرنے کی ہمت دیتا ہے۔

پولیس اسکول آف ایکسپلوزیو ہینڈلنگ کے انسٹرکٹر خالد کا کہنا ہے کہ ادارے میں ہر طرح کے بموں کو ناکارہ بنانے کی تربیت جدید ترین مشینری اور آلات کی مدد سے دی جاتی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube