Friday, October 23, 2020  | 5 Rabiulawal, 1442
ہوم   > Latest

اورکزئی کے مسلمانوں نے بے بس ہندوؤں کیلئے دل کھول دیئے

SAMAA | - Posted: Dec 12, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 12, 2018 | Last Updated: 2 years ago

لوئر اورکزئی کی شعیہ برداری نے غریب ہندوؤں کی مدد کرکے اپنا فرض تو پورا کیا، مگر دہشت گردی کے عذاب نے انہیں دوبارہ غربت کی جانب لوٹنے پر مجبور کردیا۔ دو دہائیوں قبل متاثرہ ہندو خاندان جب لوئر اورکزئی آئے تو مقامی شعیہ قبائل نے انہیں کھلے دل سے قبول کیا۔ اہل علاقہ نے...

لوئر اورکزئی کی شعیہ برداری نے غریب ہندوؤں کی مدد کرکے اپنا فرض تو پورا کیا، مگر دہشت گردی کے عذاب نے انہیں دوبارہ غربت کی جانب لوٹنے پر مجبور کردیا۔


دو دہائیوں قبل متاثرہ ہندو خاندان جب لوئر اورکزئی آئے تو مقامی شعیہ قبائل نے انہیں کھلے دل سے قبول کیا۔ اہل علاقہ نے نہ صرف انہیں سایہ فراہم کیا، بلکہ روزگار کا بندوبست بھی کیا۔ بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلایاں بازار میں واقع امام بارگاہ کے متولی نے محض پچاس روپے کرایہ کے عوض انہیں استعمال شدہ کپڑے بیچنے کیلئے اسٹال لگانے کی جگہ فراہم کی۔

لوئر اورکزئی کا مرکزی بازار، جو ان متاثرہ ہندووں کیلئے روزگار کا ذریعہ بنا، وہ ہی ان تینوں کیلئے مقتل بن گیا۔ جس امام بارگاہ کے باہر کمائی سے ان کے گھر کا چولہا جلتا تھا، وہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ 23 نومبر جمعہ کے روز کلایاں بازار میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 34 افراد جاں بحق اور 56 زخمی ہوئے۔ بدقسمتی سے ہلاک ہونے والوں میں یہ تینوں ہندو منت لال، امرت لال اور سرم چند بھی شامل تھے، جو دھماکے کے وقت سردیوں میں استعمال کے گرم کپڑے بیچ رہے تھے۔

دہشت گردی کے اس اندوہناک واقعہ نے ان خاندانوں کو دہرے غم سے دوچار کر دیا۔ امر کمار جس کا والد منت لال، دادا امرت لال اور نانا سرم چند اس دھماکے کے دوران ہلاک ہوئے، پرنم آنکھوں سے بتایا کہ ان کا خاندان غربت کے باعث پشاور سے اورکزئی ہیڈ کوارٹرز کلایاں منتقل ہوا تھا جہاں وہ مین بازار میں سڑک کنارے گارمنٹس کا اسٹال لگا کر مزدوری کرتے تھے، لیکن اس سانحے کے بعد ان کو مجبوراً یہ علاقہ چھوڑنا پڑ رہا ہے کیونکہ اب یہاں پر ان کا کوئی کمائی کا ذریعہ اور سہار باقی نہیں رہا۔

امر کمار نے کہا دھماکے کے بعد اب میری والدہ اور دادی بچے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس خودکش حملے سے قبل لوئر اورکزئی میں دہشت گردی کا کوئی مسئلہ تھا نہ یہاں کبھی کوئی فوجی آپریشن ہوا۔ واضح رہے کہ لوئر اورکزئی وہ واحد قبائلی علاقہ ہے جس کی سرحد افغانستان سے نہیں ملتی، جب کہ اس علاقے کی 10 فیصد آبادی شیعہ افراد پر مشتمل ہے۔

علاقے کا سکون اس وقت درہم برہم ہوا، جب سال 2001 کے بعد فرقہ پرستی اور دہشت گردی نے اَپر اورکزئی اور وسطی اورکزئی کو اپنی لپیٹ میں لیا اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان سب سے طاقتور دہشت گرد گروپ کے طور پر سامنے آیا۔ پاک فوج کے متعدد آپریشن کے بعد اس دہشت گرد گروہ کو بالآخر جڑ سے ختم کرنے میں مدد ملی، تاہم کچھ عرصے بعد تحریک سے وابستہ بہت سے دہشت گردوں نے تیزی سے پھیلنے والی عالمی دہشت گرد تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کرنا شروع کردی۔ یہ ہی وہ تنظیم ہے جس نے 23 نومبر کو ہونے والے کلایاں بازار خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی۔

مشکل کی اس گھڑی میں بھی شعیہ برادری نے ہندو اقلیت کو اکیلا نہ چھوڑا اور بین المذاہب دوستی کی نئی مثال قائم کی۔ افسوس کہ یہ ہندو خاندان 25 سال گزرنے کے باوجود بھی اتنے ہی غریب تھے کہ تینوں ہندوؤں کی آخری رسومات کے اخراجات بھی اٹھانے سے قاصر رہے۔ تینوں میتوں کی آخری رسومات کیلئے شعیہ برادری نے چندہ اکٹھا کرکے لاشوں کو اٹک منتقل کیا۔ میتوں کو اٹک منتقل کرنے کی ایک بڑی وجہ پشاور اور اورکزئی میں مردوں کو جلانے کیلئے شمشان گھاٹ نہ ہونا ہے۔ ان قبائلی علاقوں میں بسنے والے مجبور ہندو اپنے پیاروں کو آخری رسومات کیلئے اٹک لاتے ہیں، جہاں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے سنگم پر وہ اپنے پیاروں کی راکھ دریا میں بہاتے ہیں، اس تمام مرحلے میں فی لاش تقریباً 50 ہزار کا خرچہ آتا ہے، جو متاثرہ خاندان کو خود اٹھانا پڑتا ہے اور کوئی حکومتی نمائندہ یہاں بھی دور دور تک نظر نہیں آتا ہے۔

ہندو برادری کے پنڈت کنول ناتھ شرما کا کہنا ہے کہ مسلمانوں نے جس طرح ان کے ساتھ تعزیت کی اور غم کی اس گھڑی میں ان کا ساتھ دیا، وہ ان کے بے حد مشکور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ ہر دکھ درد میں ان کا ساتھ دیا، اگر انہیں گلہ ہے تو صرف صاحب اقتدار سے ہے کیونکہ اتنے بڑے سانحے کے باوجود کوئی بھی حکومتی رکن ان کے گھر آیا اور نہ ہی انہیں کسی نے مدد کی یقین دہانی کرائی۔

حیران کن بات یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں دوسری مرتبہ حکومت بنانے والی تحریک انصاف نے اپنے پچھلے دور حکومت میں مختلف اضلاع میں نہ صرف شمشان گھاٹ تعمیر کرنے کی منظوری دی تھی بلکہ اُس کے لئے فنڈز مختص کرکے جگہ کا تعین کرنے کے لئے کمیٹی بھی بنائی تھی، تاہم 5 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود اُس پر عمل درآمد نہ ہوسکا، جس کے باعث بیشتر ہندو اور سکھ اپنے مُردوں کو جلانے کے بجائے عقائد کے برعکس دفنانے پر مجبور ہیں۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے امرت لال کے بیٹے شفیق کمار واپس پشاور تو آگئے ہیں، جہاں ان کے خاندان کے بقیہ افراد رہتے تھے۔ شفیق سے چھوٹے تین بہن بھائی اور بھی ہیں، مگر ان کی دیکھ بھال کےلیے اب ان کے پاس کوئی روزگار نہیں۔

شفیق کمار کا کہنا ہے کہ اُس کے والد تنگ دستی کے باوجود اُنہیں پڑھاتے تھے، جمعہ کے روز بھی وہ اسکول میں تھا جب دھماکے میں والد، دادا اور نانا کی ہلاکت کی اطلاع نے ان کی دنیا تاریک کردی۔

ان تمام تر بے رخی کے باوجود شفیق کمار نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے امید ہے کہ حکومت روزگار فراہم کرنے میں ہماری مدد کرے گی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube