آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس،اعظم سواتی کامعافی نامہ مسترد

December 5, 2018
 

اسلام آباد آئی جی تبادلہ کیس میں سپریم کورٹ نے اعظم سواتی کا معافی نامہ مسترد کردیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شعور اس وقت آئے گا جب سزا ملے گی۔

سپریم کورٹ میں اسلام آباد آئی جی تبادلہ کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عدالت خود ٹرائل کرے گی، یہ بھی دیکھے گی کہ نیب قانون کے تحت کیا کارروائی بنتی ہے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ ایک فون کال پر وزیراعظم نے آئی جی کا تبادلہ کردیا، کیوں نہ وزیراعظم کو بلا کر وضاحت لی جائے۔

عدالت نے اعظم سواتی کا معافی نامہ بھی مسترد کردیا اور ان کا  پیسہ ڈیم فنڈ کیلئے لینے سے بھی انکار کردیا،چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ارب پتی آدمی ایسے لوگوں سے مقابلہ کررہا تھا جن کے پاس دو وقت کی روٹی کھانے کے پیسے بھی نہیں تھے۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیے کہ کیا اعظم سواتی حاکم وقت ہیں،رعایا سے ایسا سلوک کرتے ہیں؟ بھینسوں کی وجہ سے کیا حاکم خواتین کو گرفتار کرواتا ہے؟ شعور اس وقت آئے گا جب سزا ملے گی، کیوں نہ اعظم سواتی کو ملک کیلئے مثال بنائیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تحریک انصاف نےاعظم سواتی کیخلاف کیا ایکشن لیا؟