Tuesday, January 18, 2022  | 14 Jamadilakhir, 1443

خاتون نے جنس کی تبدیلی کیلئے پشاور ہائیکورٹ سے اجازت مانگ لی

SAMAA | - Posted: Nov 23, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 23, 2018 | Last Updated: 3 years ago

پشاور ہائی کورٹ میں اپنی نوعیت کے پہلے کیس میں 23 سالہ خاتون نے سرجری کے ذریعے جنس تبدیلی کی اجازت طلب کرلی۔

کائنات مراد کا مؤقف ہے کہ میں عورتوں کی طرح زندگی گزار کر خوش نہیں کیونکہ میں اپنے خاندان کی مدد کیلئے آزادانہ کام نہیں کرسکتی۔ وہ ’’جینڈر ڈسفوریا‘‘ نامی بیماری میں مبتلا ہے، خاتون کا ایک بیٹا ہے جبکہ اس کے والد معذوری کے باعث کام کرنے سے قاصر ہیں۔

اپنی درخواست میں کائنات کا مزید کہنا ہے کہ اس نے اپنا بچپن ایک لڑکے کی طرح گزارا ہے، میں لڑکوں کے ساتھ کھیلتی تھی اور اب میں موٹر سائیکل چلاتی ہوں۔

خاتون کے وکیل سیف اللہ کاکاخیل نے جمعہ کو پشاور ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی، جس میں کائنات نے عدالت سے آپریشن کے ذریعے جنس کی تبدیلی کی اجازت مانگی ہے۔

کائنات نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ وہ قومی شناختی کارڈ میں اس کا نام تبدیل کرکے محمد کیف درج کرنے کیلئے نادرا کو ہدایت جاری کرے۔

درخواست میں کائنات کا کہنا ہے کہ اس ملک میں ہراسانی سے حفاظت کیلئے بنائے گئے قوانین کام کرنیوالی خواتین کی حفاظت میں ناکام ہوچکے ہیں، حتیٰ کہ یہاں عورتیں سماجی پابندیوں کے باعث اپنے حقوق کیلئے آواز بھی نہیں اٹھاسکتی، یہی وجہ ہے کہ وہ جنس تبدیل کرانا چاہتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ میں تقریباً مرد ہوں، میں ڈاکٹرز سے مشورہ کیا ہے، اگرچہ وہ اس آپریشن کیلئے تیار ہیں تاہم مجھے اس حوالے سے عدالت عالیہ سے اجازت لینی ہوگی۔

کائنات کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ حالات کے نتیجے میں کائنات ڈپریشن، تشویش اور بے خوابی جیسی بیماریوں کا شکار ہوگئی ہیں جس کا علاج صرف اس سرجری سے ہی ممکن ہے، حالانکہ یہ علاج پاکستان میں غیر قانونی نہیں تاہم اسے شرمناک اقدام تصور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان میں رہنے والے شخص کا قانونی اور آئینی حق ہے کہ وہ اپنی زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزارے۔

پٹیشن میں یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ کیونکہ کائنات بہت غریب ہے اور نجی اسپتال سے یہ آپریشن نہیں کراسکتی، اس لئے عدالت عالیہ سرکاری اسپتال کو اس حوالے سے ہدایت جاری کرے۔

کائنات مراد نے اپنی پٹیشن میں خیبرپختونخوا حکومت کو بذریعہ چیف سیکریٹری، لیڈی ریڈنگ اسپتال کے سربراہ، خیبرٹیچنگ اسپتال، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور نادرا چیف کو فریق نامزد کیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube