Monday, January 17, 2022  | 13 Jamadilakhir, 1443

ایمپریس مارکیٹ کے کرایہ دارقابضین کیسے بن گئے؟

SAMAA | - Posted: Nov 23, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 23, 2018 | Last Updated: 3 years ago

اس کہانی کا آغاز صدر ایوب خان کے دور اقتدار سے ہوتا ہے۔ شہری منصوبہ بندی کا عزم رکھنے والے صدر ایوب خان کو کچی آبادیاں سخت ناپسند تھیں۔ سال 1962 میں ’’ویسٹ پاکستان میونسپل کمیٹیز‘‘کے نام سے ایک نیا قانون منظور کیا گیا جسے فوری طور پر ایمپریس مارکیٹ اور اطراف میں ٹھیلے لگانے والوں کیلئے استعمال کیا گیا۔


نئے قانون کے تحت سٹی کونسل کویہ اختیار حاصل ہوا کہ وہ جگہوں کو تقسیم کرے اور بلدیہ عظمیٰ کے اس وقت کے لینڈ منیجر انہیں متعلقہ جگہ کے کاغذات دیں۔ ان کا ماہانہ کرایہ 100 روپے مقرر ہوا اور وہ کے ایم سی کے کرایہ دار بن گئے۔ کرایے پر جگہ حاصل کرنے والوں میں سے ایک ابراہیم کاکا کے والد بھی تھے۔ ابراہیم نے بتایا ’’ میری عمر 20 سال تھی جب میرے والد نے عمر فاروقی مارکیٹ میں دکان خریدی۔ یہ مارکیٹ کے ایم سی نے ایمپریس مارکیٹ کے بالکل برابر میں تعمیر کی تھی‘‘۔ ثبوت کے طور پر ابراہیم کے پاس ایک 1968 میں بنوایا گیا بینک چالان موجود تھا جس کے تحت ایڈوانس کی رقم اداکی گئی۔

اس دکان کی الاٹمنٹ کے 50 سال بعد گزشتہ ہفتے اسے غیرقانونی قرار دیتے ہوئے گرادیا گیا۔

ابراہیم نے اپنی آنکھوں سے دکان کو مسمار ہوتے دیکھا۔ اب وہ دیگر دکانداروں کے ساتھ ملبے پر بیٹھا ہے جو سٹی گورنمنٹ کی جانب سے تجاوزات کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اس آپریشن کی زد میں آئے۔ ابراہیم کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے اپنی پوری زندگی اس مارکیٹ کے لیے وقف کردی، کے ایم سی والے آئے اور ہمارے ذریعہ معاش پر بلڈوزر چلا دیا‘‘۔

اسی طرح سے نو آبادیاتی دور کی یادگار ایمپریس مارکیٹ کے دامن میں واقع طوطوں، تربوزوں، کشمیری چائے اور جائفل کی مارکیٹیں بھی نامناسب طریقے سے گرا دی گئیں۔

میونسپل کمشنربلدیہ عظمیٰ ڈاکٹرسیف الرحمان کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر ایمپریس مارکیٹ کے اطراف میں واقع تقریبا 3 ہزار دکانوں کو مسمار کیا گیا۔

آپریشن کا آغاز

تجاوزات کے خلاف اس آپریشن کا آغاز 8 نومبر 2018 کو ہوا۔ جنرل سیکرٹری مارکیٹ ایسوسی ایشن محمد رضوان نے بتایا کہ حکام کی جانب سے ہمیں کسی قسم کے خط یا نوٹس کے بجائے صرف 3 گھنٹے کاالٹی میٹم دیا گیا۔ آپریشن سے قبل صدرکےعلاقے میں کچھ بینرز ضرور آویزاں کیے گئے تھے لیکن ان میں صرف فٹ پاتھ پر قائم تجاوزات کا ذکرتھا۔

ابراہیم کاکا نے مزید بتایا کہ دکانداروں نے اس کیخلاف مظاہرہ کیا اوردودن کی مہلت لینے کی کوشش کی ، پھر کمشنر نے ہمارے ساتھ ملاقات کی اورکہا کہ ہم پرامن طریقے سے دکانیں خالی کردیں۔ ہم ریاست کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے تھے۔

ایمپریس مارکیٹ کے ایک طرف عمرفاروقی مارکیٹ اوردوسری جانب پان مارکیٹ ہے جبکہ خشک میوہ جات، انڈوں اور پرندوں کی مارکیٹیں عمر فاروقی مارکیٹ کے عقب میں واقع ہیں۔ سبزیوں اور پولیٹری کی مارکیٹیں پچھلی جانب ہیں۔ آپریشن کے دوران یہ تمام مارکیٹیں گرادی گئیں

کرایہ داروں کے حقوق

یہاں سب کے ذہنوں میں سوال اٹھتا ہے کہ اگر 1968 میں ایمریس مارکیٹ کے اطراف میں انہیں دکانوں کیلئے جگہ دی گئی تھی اور ٹھیلا لگانے والے کرایے دارٹھہرے تھے تو پھرایک دم سے یہاں قائم دکانوں کو تجاوزات کیسے کہہ دیا گیا۔

جنرل سیکرٹری محمد رضوان نے بتایا کہ ابتدائی طورپران دکانوں کو کیبن کہا جاتا تھا اور سال 2005 تک یہ ایمپریس مارکیٹ کے اطراف تجارتی بنیادوں پر چلائی جاتی رہیں۔ پھر اس وقت کے میئر کراچی نعمت اللہ خان نے ان کیبنوں کو دکانوں میں تبدیل کرنے کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔

محمد رضوان نے مزید کہا کہ سال 1993 سے نومبر 2018 تک یہ دکان دار ہر چھ ماہ بعد کے ایم سی کو کرایہ ادا کرتے رہے۔ ابھی بھی ہم نے دسمبر تک کا کرایہ دے رکھا تھا لیکن اس کے باوجود ہماری دکانیں مسمارکردی گئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’ان تمام دستاویزات اور چالان کی موجودگی کے باوجود کے ایم سی نے ہمیں قابضین کیسے کہہ دیا؟ ‘‘۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے این ای ڈی یونیورسٹی کے شعبہ آرکیٹیکچر کے سربراہ ڈاکٹرنعمان احمد نے کہا کہ یہاں ایک قانونی سوال بنتا ہے۔ اگرکرایہ داری سے متعلق کوئی معاہدہ تھاتو اسے دیکھنا چاہیئے تھا کیونکہ ضروری نہیں ہے کہ وہ معاہدہ سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا ہو۔

ڈاکٹر نعمان کے مطابق قانونی اورسرکاری فورمز پریہی تاثردیا گیا کہ یہاں موجود تمام دکانیں اوراسٹالزغیرقانونی تھے۔ کے ایم سی کو لینڈ ڈیپارٹمنٹ سے بات کرنے کے بعد دیکھنا چاہئیے تھا کہ یہ آپریشن قانونی ہے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پرندوں اور پالتوں جانوروں کی مارکیٹیں یہاں پر کافی عرصے سے قائم تھیں۔ پرانے کپڑوں کی مارکیٹ، پتنگ مارکیٹ، خشک میوہ اور مصالحہ جات کے ٹھیلے اصل میں اپنے اندر ایک ورثے کا درجہ رکھتے تھے۔

میونسپل کمشنرڈاکٹرسیف الرحمان کے مطابق کے ایم سی کی جانب سے ایک کمیٹی قائم کردی گئی ہے جومتبادل جگہ فراہم نہ کیے جانے والے قانونی دکانداروں کو معاوضہ دے گی۔ اگریہ غیر قانونی تھا تو کے ایم سی کوایسی جگہ کی الاٹمنٹ ہی نہیں کرنی چاہیئے تھی۔

جنرل سیکرٹری مارکیٹ ایسوسی ایشن محمد رضوان کا کہنا ہے کہ دکانداروں نے یہاں لاکھوں روپے کا سامان لا کررکھا تھا۔ حکومت کو کم سے کم 6 ماہ کی مہلت اور متبادل جگہ فراہم کرنی چاہیئے تھی کیونکہ ہم قانونی کرائے دارہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube