Friday, October 23, 2020  | 5 Rabiulawal, 1442
ہوم   > Latest

خیبرپختونخوا میں ’آئس‘ کی روک تھام کیلئے قانون سازی کا فیصلہ

SAMAA | and - Posted: Nov 15, 2018 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Nov 15, 2018 | Last Updated: 2 years ago

خیبر پختونخوا میں خطرناک نشہ ’آئس‘ گلی محلوں سے نکل کر تعلیمی اداروں میں پہنچ چکا ہے جس کے باعث جرائم کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت نے اس نشے کی روک تھام کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق خیبر پختونخوا میں اس وقت آئس کا نشہ کرنے والوں کی تعداد 10 ہزار سے زائد ہے جس میں طلبہ و طالبات، ورکنگ خواتین اور مردوں سمیت گھریلو عورتیں بھی شامل ہیں جبکہ تعلیمی اداروں کے اندر طلبہ امتحانات کی تیاری کے دوران نیند اور تھکاوٹ سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے زیرہلا نشہ کرتے ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت نے اس نشے کی روک تھام کے لیے منشیات کے کنٹرول سے متعلق 1997 کے ایکٹ میں ترمیم کی تجویز دی ہے۔ اس ترمیم میں آئس کے کاروبار پر7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے قانون سازی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا اور خاص طور پر پشاور میں آئس نامی نشہ دن بدن پھیلتا جارہا ہے۔ حکومت نے اس کی روک تھام کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے اور جلد ہی ترمیمی بل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور، امتحانات میں کامیابی کیلئے طلبہ آئس کا نشہ کرنے لگے

آئس نشہ ’میتھ ایمفٹامین‘ نامی ایک کیمیکل سے بنتا ہے۔ یہ چینی یا نمک کے بڑے دانے کے برابر کرسٹل جیسی ایک سفید چیز ہوتی ہے جسے باریک شیشے سے گزار کر حرارت دی جاتی ہے۔ اس کے لیے عام طور پر بلب (انرجی سیور) کے باریک شیشے کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اسے انجیکشن کے ذریعے بھی جسم میں اتارا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئس کا نشہ کرنے کے بعد انسان کی توانائی وقتی طور پردو گنی ہوجاتی ہے اور ایک عام شخص 24 سے لے کر 48 گھنٹوں تک جاگ سکتا ہے۔ اس دوران انسان چاک وچوبند رہتا ہے مگر نشہ اترنے کے بعد زیادہ نیند اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔

آئس کا نشہ صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ زہریلا نشہ دماغ کے ساتھ ساتھ جوڑوں اور جسم کے دیگراعضاء کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔ اس نشے کے عادی شخص کو معمولی بات پر غصہ آتا ہے اور اکثر وہ خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کرتا ہے۔

بعض لوگ اسے چرس اور دیگر منشیات کے ساتھ ملاکر جسم میں اتارتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئس کو اگر دوسرے نشے کے ساتھ ملاکر استعمال کیا جائے تو مضر اثرات دوگنا ہوجاتے ہیں۔

ایس ایس پی پشاور کینٹ وسیم ریاض نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ آئس کی بڑی مقدار افغانستان اور ایران سے اسمگل ہورہی ہے۔ آغازمیں اس کی قیمت بہت زیادہ ہوا کرتی تھی، اس لئے یہ صرف امیر لوگ ہی استعمال کر سکتے تھے۔ اب منشیات فروش آئس میں مختلف اقسام کی ادویات اورخطرناک کیمیکل ملاکر مقدار بڑھاتے ہیں اور پھر اسے کم قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور کے نوجوان آئس نشے کا شکار، سالانہ 400 مریض بحالی مرکز میں داخل

دو سال پہلے جب آئس پشاور پہنچا تو اس کا صرف ایک گرام 10 ہزار روپے میں ملتا تھا مگر اب یہ قیمت انتہائی کم ہوگئی ہے۔

ایس ایس پی کینٹ کے مطابق قیمت میں کمی کے باعث آئس کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا اور یہ باآسانی ہر شخص کی پہنچ میں آگیاجس کے باعث یہ نشہ گلی محلے سے لے کر تعلیمی اداروں تک پہنچ گیا ہے۔

پشاور پولیس کے مطابق آئس کا نشہ عام ہونے کے بعد شہر میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جب نوجوانوں کے پاس آئس خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تو وہ اس کے لیے چوری اور ڈکیتی جیسے جرائم کی جانب راغب ہوجاتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube