Wednesday, August 12, 2020  | 21 Zilhaj, 1441
ہوم   > Latest

نوازشریف متنازع انٹرویو سے متعلق کیس میں پیش نہیں ہوئے

SAMAA | - Posted: Nov 12, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 12, 2018 | Last Updated: 2 years ago

سابق وزیراعظم نوازشریف ممبئی حملوں سے متعلق متنازع انٹرويو پرغداری کا مقدمہ درج کرنے کے کيس ميں پیش نہیں ہوئے۔ شاہد خاقان عباسی اور انٹرویو لینے والا صحافی لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔

سابق وزرائے اعظم نوازشریف اورشاہد خاقان عباسی کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہرعلي اکبر نقوي کي سربراہي ميں 3 رکني بنچ نے کی۔

نوازشريف طلبی کے باوجود غیرحاضر رہے جبکہ سابق وزيراعظم شاہد خاقان عباسي اور صحافي سرل الميڈا عدالت ميں پيش ہوئے۔

درخواست گزارآمنہ ملک کے وکیل اعظم صدیق بھی بوجوہ عدالت نہیں پہنچے۔ لاہور ہائیکورٹ نے سماعت بغیرکسی کارروائی کے ايک ہفتے کے لئے ملتوي کردي ، کیس کی آئندہ سماعت 19 نومبر کو ہوگی۔

گزشتہ سماعت پر نواز شریف کا تحریری جواب

بائیس اکتوبر کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں نوازشريف اورشاہد خاقان عباسی نے جواب جمع کرایا تھا۔ نوازشريف نے اپنے دفاع میں کہا کہ غداری جیسے سنگين اور بے بنياد الزام کا جواب دينا بھی حب الوطني پرحرف خيال کرتاہوں۔ مجھےعوام نے وزيراعظم بنايا، کيا عوام بھي غدارہيں؟ہرکسي کو غدارکہنے کا يہ کھيل بند ہونا چاہیے۔ سب سے بڑي عدالت نے آمرکيخلاف کيس چلانے کا کہا،غداري کاالزام لگانے والے پٹينشرکو معلوم ہے وہ ڈکٹيٹرکہاں ہے؟درخواست گزارکوجوعلم ہوا، وہ کروڑں پاکستانيوں کو کيوں نہيں ہوا؟کيا ايجنسياں ناکارہ ہوگئيں جنہيں ميري غداري کا علم نہيں ہوسکا؟۔

پس منظر

واضح رہے کہ نوازشریف اورشاہد خاقان عباسی کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست آمنہ ملک نامی شہری نے نوازشریف کے ایک انگریزی روزنامے کو دیے جانے والے انٹرویو کو بنیاد بناتے ہوئے دائرکررکھی ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ حلف کی پاسداری نہ کرنے پر دونوں سابق وزرائے اعظم کے خلاف بغاوت کی کارروائی کی جائے۔

متنازع قرار دیے جانے والے انٹرویو میں نواز شریف نے عسکری تنظیموں کو نان اسٹیٹ ایکٹرز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ممبئی حملوں کیلئے پاکستان سے غیر ریاستی عناصر گئے تھے، کیا انہیں یہ اجازت دینی چاہیئے کہ وہ ممبئی جا کر 150 افراد کو ہلاک کریں۔ انٹرویو میں سابق وزیراعظم نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ممبئی حملوں کا ٹرائل اب تک مکمل کیوں نہیں ہوا؟۔

اس انٹرویو کے بعد نوازشریف کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑاتھا، بھارت کی جانب سے اس انٹرویو کو اپنے مفاد میں استعمال کیا گیا، معاملے کی حساسیت کے پیش نظر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس کی صدارت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کی تھی جنہوں نے بعد ازاں نوازشریف سے ملاقات کر کے انہیں اس ہنگامی اجلاس اور انٹرویو کے بعد کی صورتحال سے متعلق آگاہ کیا تھا۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ نواز شریف کا انٹرویو ملک سے غداری ہے جبکہ شاہد خاقان عباسی نے اجلاس کی کارروائی سابق وزیراعظم کو بتا کرحلف کی پاسداری نہیں کی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube